Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
86 - 601
قوموں کے زوال سے متعلق اللّٰہ تعالیٰ کا قانون:
	قدرت کا یہی اٹل قانون سورۂ اَنفال کی اس آیت میں بھی بیان ہو چکا ہے
’’ذٰلِکَ بِاَنَّ اللہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَۃً اَنْعَمَہَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمْ‘‘ (1) 
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ اس وجہ سے ہے کہ اللّٰہ کسی نعمت کو ہرگز نہیں بدلتا جو اس نے کسی قوم کو عطا فرمائی ہو جب تک وہ خود ہی اپنی حالت کو نہ بدلیں۔
	اسلامی تاریخ میں اس قانون کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جیسے ماضی بعید میں دنیا کے تین برِّ اعظموں پر نافذ مسلم حکومت کا ختم ہو جانا، 800 سال تک اسپین پر حکومت کے بعد وہاں سے سلطنت ِ اسلامیہ کے سورج کا غروب ہوجانا، اَسلاف کی بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہونے والے مسلمانوں کے پہلے قبلے ’’بیتُ المقدس‘‘ کا یہودیوں کے قبضے میں چلے جانا، اسلام کی متحد حکومت کا بیسیوں ٹکڑوں میں تقسیم ہو جانا اور ماضی قریب میں پاکستان کے دوٹکڑے ہوجانا، عراق اور افغانستان پر غیروں کا قبضہ ہو جانا ،مسلم دنیا کا کافر حکومتوں کی دست نگر ہو جانا اس قانونِ قدرت کی واضح مثالیں ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقلِ سلیم عطا فرمائے،اٰمین۔
ہُوَ الَّذِیۡ یُرِیۡکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّیُنْشِ‍ئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ ﴿ۚ۱۲﴾
ترجمۂکنزالایمان:وہی ہے کہ تمہیں بجلی دکھاتا ہے ڈر کو اور امید کو اور بھاری بدلیاں اٹھاتا ہے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان:وہی ہے جو تمہیں بجلی دکھاتا ہے اس حال میں کہ تم ڈرتے ہویا امید کرتے ہو اور وہ بھاری بادل پیدا فرماتا ہے۔ 
{ہُوَ الَّذِیۡ یُرِیۡکُمُ الْبَرْقَ:وہی ہے جو تمہیں بجلی دکھاتا ہے۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرتوں میں سے ایک ایسی چیز کابیان فرمایا ہے کہ جو ایک اعتبار سے نعمت ہے اور ایک اعتبار سے عذاب ہے ۔آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ رب عَزَّوَجَلَّ وہی ہے جواپنے بندوں کو بجلی دکھاتا ہے اس حال میں کہ بعض لوگ بجلی گرنے سے ڈر رہے ہوتے ہیں اور بعض لوگ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…انفال:۵۳۔