Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
85 - 601
سے روایت ہے، حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’رات اور دن کے فرشتے تم میں باری باری آتے رہتے ہیں اور نمازِ فجر اور نمازِ عصر میں اکھٹے ہوتے ہیں پھر جو تمہارے پاس آئے تھے وہ اوپر چڑھ جاتے ہیں تو ان کا رب عَزَّوَجَلَّ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ انہیں خوب جانتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں ’’ہم نے انہیں چھوڑا تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم ان کے پاس گئے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (1)
{یَحْفَظُوۡنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللہِ:اللّٰہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔} امام مجاہد رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ہر بندے کے ساتھ ایک فرشتہ حفاظت پرمامور ہے جو سوتے جاگتے جن و اِنس اور موذی جانوروں سے اس کی حفاظت کرتا ہے اور ہر ستانے والی چیز کو اس سے روک دیتا ہے سوائے اس کے جس کا پہنچنا مَشِیَّت میں ہو۔ (2)
اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندے بھی حفاظت کرتے ہیں:
	اس سے معلوم ہوا کہ جسے اللّٰہ تعالیٰ حفاظت کرنے کی قدرت عطا فرمائے وہ بھی حفاظت کر سکتے ہیں اور کرتے بھی ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی عطا سے حفاظت کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود کسی کوجو اَذِیَّت یا تکلیف پہنچ جاتی ہے اُس کی وجہ یہ ہے کہ اُس کا پہنچنا اللّٰہ تعالیٰ کی مشیت میں ہوتا ہے اور جو چیز اللّٰہ تعالیٰ کی مشیت میں ہو اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندے اس کے خلاف نہیں کرتے، لہٰذا اللّٰہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی عطا سے بلاؤں اور آفتوں سے حفاظت کرنے والا ماننا اور ان سے حفاظت کی اِلتجا کرنا درست ہے اور اگر التجا کے باوجود حفاظت نہ ہو تو ان کے خلاف زبانِ طعن دراز کرنا غلط و باطل ہے ۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کیا خوب فرماتے ہیں
تم ہو حفیظ و مغیث کیا ہے وہ دشمن خبیث	تم ہو تو پھر خوف کیا تم پہ کروڑوں درود
{اِنَّ اللہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ:بیشک اللّٰہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا ۔}اس آیت میں قدرت کا ایک قانون بیان کیا گیا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس وقت تک کسی قوم سے اپنی عطا کردہ نعمت واپس نہیں لیتا جب تک وہ قوم خود اپنے اچھے اعمال کو برے اعمال سے تبدیل نہ کر دے۔ (3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1… بخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ، باب فضل صلاۃ العصر، ۱/۲۰۳، الحدیث: ۵۵۵، مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب فضل صلاتی الصبح والعصر والمحافظۃ علیہما، ص۳۱۷، الحدیث: ۲۱۰(۶۳۲)۔
2…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۱، ۳/۵۵۔
3…صاوی، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۱، ۳/۹۹۴۔