کے لئے پیغام بھیجا تو انہوں نے بخوشی قبول کرلیا۔ اس طرح حضرت عاصم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شادی اس لڑکی سے ہوگئی اور پھر ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس سے حضرت عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ولادت ہوئی۔ (1)
لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوۡنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَابِاَنْفُسِہِمْ ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللہُ بِقَوْمٍ سُوۡٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَہٗ ۚ وَمَا لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ وَّالٍ ﴿۱۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: آدمی کے لیے بدلی والے فرشتے ہیں اس کے آگے اورپیچھے کہ بحکمِ خدا اس کی حفاظت کرتے ہیں بیشک اللّٰہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں اور جب اللّٰہ کسی قوم سے برائی چاہے تو وہ پھر نہیں سکتی اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: آدمی کے لیے اس کے آگے اور اس کے پیچھے بدل بدل کر باری باری آنے والے فرشتے ہیں جو اللّٰہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ بیشک اللّٰہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں اور جب اللّٰہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے کوئی پھیرنے والا نہیںاور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں۔
{لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ:آدمی کے لیے بدل بدل کر باری باری آنے والے فرشتے ہیں ۔} جمہور مفسرین کے نزدیک ان فرشتوں سے دن اور رات میں حفاظت کرنے والے فرشتے مراد ہیں، انہیں بدل بدل کر باری باری آنے والا اس لئے کہا گیا کہ جب رات کے فرشتے آتے ہیں تو دن کے فرشتے چلے جاتے ہیں اور دن کے فرشتے آتے ہیںتو رات کے فرشتے چلے جاتے ہیں۔(2)
فجر اور عصر کی نماز پڑھنے کا فائدہ:
فرشتوں کی یہ تبدیلی فجر اور عصر کی نماز کے وقت ہوتی ہے اور جو لوگ یہ دونوں نمازیں ادا کرتے ہیں انہیں یہ فائدہ حاصل ہو جاتا ہے کہ فرشتوں کی تبدیلی کے وقت وہ حالتِ نماز میں ہوتے ہیں ،چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…عیون الحکایات، الحکایۃ الثانیۃ عشرۃ، ص۲۸-۲۹، ملخصاً۔
2…تفسیرکبیر، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۱، ۷/۱۷۔