Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
485 - 601
انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گناہوں سے معصوم اور اولیاء کرام محفوظ ہوتے ہیں:
	انہی آیات کی بنا پر انبیاءِ کرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بارے میں مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ معصوم ہیں اور انہی کو سامنے رکھ کر علماء نے فرمایا ہے کہ اولیاءِ کرام رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْبھی گناہوں سے محفوظ ہوتے ہیں کہ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّکے خاص بندوں میں وہ بھی شامل ہیں۔  
رَبُّکُمُ الَّذِیۡ یُزْجِیۡ لَکُمُ الْفُلْکَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوۡا مِنۡ فَضْلِہٖ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِکُمْ رَحِیۡمًا ﴿۶۶﴾ وَ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنۡ تَدْعُوۡنَ اِلَّاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىکُمْ اِلَی الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ ؕ وَکَانَ الۡاِنْسَانُ کَفُوۡرًا ﴿۶۷﴾
ترجمۂکنزالایمان:  تمہارا رب وہ ہے کہ تمہارے لیے دریا میں کشتی رواں کرتا ہے کہ تم اس کا فضل تلاش کرو بیشک وہ تم پر مہربان ہے۔اور جب تمہیں دریا میں مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے سوا جنہیں پوجتے ہیں سب گم ہوجاتے ہیں پھر جب وہ تمہیں خشکی کی طرف نجات دیتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہو اور آدمی بڑا ناشکرا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تمہارا رب وہ ہے کہ تمہارے لیے دریا میں کشتیاں جاری کرتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو، بیشک وہ تم پر مہربان ہے۔ اور جب تمہیں دریا میں مصیبت پہنچتی ہے تو اللّٰہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ سب گم ہوجاتے ہیں پھر جب تمہیں خشکی کی طرف نجات دیتا ہے توتم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان بڑا ناشکرا ہے۔
{وَ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ:اور جب تمہیں دریا میں مصیبت پہنچتی ہے ۔} ارشاد فرمایا کہ اے مشرکو! تمہارا حال یہ ہے کہ جب تمہیں سمندری سفر میں مصیبت آتی ہے اور ڈوبنے کا اندیشہ ہوتا ہے تو اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّکے سوا جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو وہ سب گم ہوجاتے ہیں اور ان جھوٹے معبودوں میں سے کسی کا نام زبان پر نہیں لاتے اور اس وقت اللّٰہ تعالیٰ سے ہی حاجت روائی چاہتے ہو اور اسی کو پکارنے لگتے ہو لیکن پھر جب وہ تمہیں طوفان سے نجات دیدیتا ہے اور تمہیں خشکی