بارگاہ سے نکل جا اور تجھے قیامت تک کی مہلت دی گئی ہے اور یاد رکھ کہ جو تیری پیروی کرے گا تو اسے جہنم کی بھرپور سزا ملے گی اور اس آیت میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مزید فرمایا کہ تو اپنی آواز کے ذریعے جسے پھسلا سکتا ہے پھسلا دے اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کے ذریعے چڑھائی کردے یعنی اپنے تمام مکروفریب کے جال اور اپنے تمام لشکر ان کے خلاف استعمال کرلے اور تجھے مہلت دی جاتی ہے کہ گناہ کروا کر ان کے مالوں اور اولاد میں توان کا شریک ہوجا اور ان سے جھوٹے وعدے کرتا رہ۔ شیطان کے پھسلانے کے بارے میں علماء نے فرمایا کہ اس کا پھسلانا وسوسے ڈالنا اور معصیت کی طرف بلا نا ہے اور بعض علماء نے فرمایا کہ اس سے مراد گانے باجے اور لہو و لعب کی آوازیں ہیں۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے منقول ہے کہ جو آواز اللّٰہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف منہ سے نکلے وہ شیطانی آواز ہے۔(1)مال و اولاد میں شریک ہونے سے کیا مراد ہے ، اس سلسلے میں زجاج نے کہا کہ جو گناہ مال میں ہو یا اولاد میں ہو، ابلیس اس میں شریک ہے، مثلاً سود اور مال حاصل کرنے کے دوسرے حرام طریقے اور یونہی فسق و ممنوعات میں خرچ کرنا ، نیز زکوٰۃ نہ دینا یہ مالی اُمور ہیں جن میں شیطان کی شرکت ہے جبکہ زنا اور ناجائز طریقے سے اولاد حاصل کرنا یہ اولاد میں شیطان کی شرکت ہے۔(2)
اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمْ سُلْطٰنٌ ؕ وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیۡلًا ﴿۶۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا کچھ قابو نہیں اور تیرا رب کافی ہے کام بنانے کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا کچھ قابو نہیں، اور تیرا رب کافی کارساز ہے ۔
{اِنَّ عِبَادِیۡ:بیشک میرے بندے۔} اللّٰہ تعالیٰ نے ابلیس سے ارشاد فرمایا کہ تجھے مہلت اور اختیار دیا گیا کہ تو میری مخلوق کو گمراہ کردے اور اپنے جال میں پھنسائے مگر میرے وہ بندے جو اصحابِ فضل وصلاح ہیں جیسے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام انہیں میں تجھ سے محفوظ رکھوں گا اور شیطانی مکرو فریب اور وَساوِس ان سے دور کروں گا۔(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۶۴،۵/۱۸۰-۱۸۱، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۶۵، ۳/۱۸۱، ملتقطاً۔
2…مدارک، الاسراء، تحت الآیۃ: ۶۴، ص۶۳۰، ملخصاً۔
3…خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۶۵، ۳/۱۸۲، ملخصاً۔