کی طرف صحیح سلامت لے آتا ہے توتم پھراس کی توحید سے منہ پھیر لیتے ہو اور دوبارہ انہیں ناکارہ بتوں کی پرستش شروع کردیتے ہو۔ اس ساری صورتِ حال کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان بڑا ناشکرا ہے۔(1)
اَفَاَمِنۡتُمْ اَنۡ یَّخْسِفَ بِکُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیۡکُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَکُمْ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۶۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: کیا تم اس سے نڈر ہوئے کہ وہ خشکی ہی کا کوئی کنارہ تمہارے ساتھ دھنسادے یا تم پر پتھراؤ بھیجے پھر اپنا کوئی حمایتی نہ پاؤ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے کہ اللّٰہ تمہارے ساتھ خشکی کا کنارہ زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر بھیجے پھر تم اپنے لئے کوئی حمایتی نہ پاؤ۔
{اَفَاَمِنۡتُمْ:کیا تم بے خوف ہوگئے۔} یعنی اے لوگو! کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئے کہ تمہارے دریا سے نجات پانے کے بعد اللّٰہ تعالیٰ تمہیں خشکی کے کنارے سمیت زمین میں دھنسا دے جیسا کہ قارون کو زمین میں دھنسا دیا تھا۔ آیت کا مقصد یہ ہے کہ خشکی وتری سب اللّٰہ تعالیٰ کے تحت ِقدرت ہیں جیسا وہ سمندر میں غرق کرنے اور بچانے دونوں پر قادر ہے ایسا ہی خشکی میں بھی زمین کے اندر دھنسا دینے اور محفوظ رکھنے دونوں پر قادر ہے۔ خشکی ہو یا تری ہر کہیں بندہ اس کی رحمت کا محتاج ہے۔ وہ تمہیں زمین میں دھنسانے پر بھی قادر ہے اور یہ بھی قدرت رکھتا ہے کہ تم پر پتھروں کی بارش برسا دے جیسے قومِ لوط پر بھیجی تھی اورپھر تم اپنے لئے کوئی حمایتی نہ پاؤ جو تمہیں بچاسکے۔(2) الغرض ہر حال میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنا چاہیے۔
اَمْ اَمِنۡتُمْ اَنۡ یُّعِیۡدَکُمْ فِیۡہِ تَارَۃً اُخْرٰی فَیُرْسِلَ عَلَیۡکُمْ قَاصِفًا مِّنَ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۶۷، ۳/۱۸۲، ملخصاً۔
2…روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۶۸، ۵/۱۸۳، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۶۸، ۳/۱۸۲، ملتقطاً۔