وَیَرْجُوۡنَ رَحْمَتَہٗ وَیَخَافُوۡنَ عَذَابَہٗ ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُوۡرًا ﴿۵۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ مقبول بندے جنہیں یہ کافر پوجتے ہیں وہ آپ ہی اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں بیشک تمہارے رب کا عذاب ڈر کی چیز ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ مقبول بندے جن کی یہ کافر عبادت کرتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے ۔وہ اللّٰہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں بیشک تمہارے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے۔
{اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ: وہ جنہیں یہ پوجتے ہیں۔} کفارکے بہت سے گروہ تھے۔ کوئی بتوں اور دیوی ، دیوتاؤں کو پوجتا تھا اور کوئی فرشتوں کو، یونہی عیسائی حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خدا یا خدا کا بیٹا کہتے تھے اور یہودیوں کا ایک گروہ حضرت عزیر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ، یونہی بہت سے لوگ ایسے جنوں کو پوجتے تھے جو اسلام قبول کرچکے تھے لیکن ان کے پوجنے والوں کو خبر نہ تھی تو اللّٰہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اُن لوگوں کوشرم دلائی کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا جن مُقَرَّبینِ بارگاہِ الٰہی کو یہ لوگ پوجتے ہیں وہ تو خود اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ تک رسائی کیلئے وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے تاکہ جو سب سے زیادہ مقرب ہو اس کو وسیلہ بنائیں تو جب یہ مقربین بھی بارگاہِ الٰہی تک رسائی کیلئے وسیلہ تلاش کرتے ہیں اور رحمت ِالٰہی کی امید رکھتے ہیں اور عذاب ِ الٰہی سے ڈرتے ہیں تو کافر انہیں کس طرح معبود سمجھتے ہیں۔(1)
اللّٰہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کو اس کی بارگاہ میں وسیلہ بنانا جائز ہے:
اس سے معلوم ہوا کہ مقرب بندوں کو بارگاہِ الٰہی میں وسیلہ بنانا جائز اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے۔ آیت میں وسیلہ بنانے کا جوازبیان کیا گیا ہے اور شرک کا رد کیا گیا ہے۔ وسیلہ ماننے اور خدا ماننے میں زمین و آسمان کا فرق ہے، جو وسیلے کو شرک کہے وہ اس آیت کے مطابق مَعَاذَاللّٰہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھی شرک کا مُرتکب
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۵۷، ۳/۱۷۸، ملتقطاً۔