الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زبور میں بھی ہے۔ مخلوق کی پیدائش میں اصلِ مقصودآپ کی ذات ہے اور باقی ساری مخلوق آپ کے طفیل ہے۔(1)
قُلِ ادْعُوا الَّذِیۡنَ زَعَمْتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ فَلَا یَمْلِکُوۡنَ کَشْفَ الضُّرِّعَنۡکُمْ وَ لَا تَحْوِیۡلًا ﴿۵۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ پکارو انہیں جن کو اللّٰہ کے سوا گمان کرتے ہو تو وہ اختیار نہیں رکھتے تم سے تکلیف دو ر کرنے اور نہ پھیر دینے کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: پکارو انہیں جن کو تم اللّٰہ کے سوا (معبود) سمجھتے ہو تووہ تم سے تکلیف ہٹانے کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ اسے پھیر دینے کا۔
{قُلْ:تم فرماؤ۔} آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ ایک مرتبہ جب کفار شدید قحط میں مبتلا ہوئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ کتے اور مردار کھا گئے اور بالآخر سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں فریاد لے کر آئے اور آپ سے دعا کی اِلتجا کی تواس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ جب بتوں کو خدا مانتے ہو تو اس وقت انہیں پکارو اور وہ تمہاری مدد کریں اور جب تم جانتے ہو کہ وہ تمہاری مدد نہیں کرسکتے تو کیوں انہیں معبود بناتے ہو۔(2)
خلاصہ یہ ہے کہ یہ بت معبود نہیں، نہ تو اس پر قادر ہیں کہ تکلیف مٹا دیں اور نہ اس پر کہ تم سے مصیبت منتقل کرکے دوسرے پر ڈال دیں۔
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ یَبْتَغُوۡنَ اِلٰی رَبِّہِمُ الْوَسِیۡلَۃَ اَیُّہُمْ اَقْرَبُ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۵۵، ۵/۱۷۴۔
2…خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۵۶، ۳/۱۷۸۔