قرار دیتا ہے۔ اِس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کائنات کا سب سے بڑا وسیلہ ہیں کہ بارگاہِ الٰہی میں سب سے مقرب وہی ہیں تو بقیہ سب انہیں کو وسیلہ بناتے ہیں اور اسی لئے میدانِ قیامت میں سب لوگ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں ہی جمع ہوکر حاضری دیں گے اور بارگاہِ الٰہی میں سفارش کروائیں گے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں:
ہم ہیں اُن کے وہ ہیں تیرے تو ہوئے ہم تیرے اس سے بڑھ کر تِری سمت اور وسیلہ کیا ہے
ان کی امّت میں بنایا انھیں رحمت بھیجا یوں نہ فرما کہ ترا رحم میں دعویٰ کیا ہے
صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے
وَ اِنۡ مِّنۡ قَرْیَۃٍ اِلَّا نَحْنُ مُہۡلِکُوۡہَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ اَوْ مُعَذِّبُوۡہَا عَذَابًا شَدِیۡدًا ؕ کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتٰبِ مَسْطُوۡرًا ﴿۵۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کوئی بستی نہیں مگر یہ کہ ہم اسے روزِ قیامت سے پہلے نِیست کردیں گے یا اسے سخت عذاب دیں گے یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کوئی بستی نہیں مگر یہ کہ ہم اسے روزِ قیامت سے پہلے ختم کردیں گے یا اسے سخت عذاب دیں گے۔ یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے۔
{قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ: قیامت کے دن سے پہلے۔} ارشاد فرمایا کہ کوئی بستی نہیں مگر یہ کہ ہم اسے فرمانبردار ہونے کی صورت میں اچھی موت کے ساتھ روزِ قیامت سے پہلے ختم کردیں گے اور اگر گناہگار ہوتو اسے دُنْیوی عذاب کے ساتھ ہلاک کردیں گے اور اگر کسی کافر بستی کو دنیوی عذاب نہ آیا تو آخرت میں شدید عذاب دیں گے اور یہ بات لوحِ محفوظ میں لکھی ہوئی ہے۔ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا جب کسی بستی میں زنا اور سود کی کثرت ہوتی ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اس کی ہلاکت کا حکم دیتا ہے۔(1)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۵۸، ۳/۱۷۹۔