یاد رہے کہ رشتے داروں سے حسنِ سلوک کا قرآنِ پاک میں بکثرت حکم دیا گیا ہے چنانچہ کم از کم 8 مقامات پر اللّٰہ تعالیٰ نے رشتے داروں سے حسنِ سلوک کا فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ رشتے داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے ،نیز یہاںرشتے داروں کے بعد مسکینوں اور مسافروںکا حق دینے کا فرمایا کہ اُن کا حق دو۔
{وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیۡرًا: اور فضول خرچی نہ کرو۔} یعنی اپنا مال ناجائز کام میں خرچ نہ کرو ۔ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے تَبذیر کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ جہاں مال خرچ کرنے کاحق ہے ا س کی بجائے کہیں اور خرچ کرنا تبذیر ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص اپنا پورا مال حق یعنی اس کے مَصرف میں خرچ کر دے تو وہ فضول خرچی کرنے والا نہیں اور اگر کوئی ایک درہم بھی باطل یعنی ناجائز کام میں خرچ کردے تو وہ فضول خرچی کرنے والا ہے۔ (1)
اِسرا ف کا حکم اور اس کے معانی:
اسراف بلاشبہ ممنوع اور ناجائز ہے اور علماءِ کرام نے اس کی مختلف تعریفات بیان کی ہیں ،ان میں سے 11 تعریفات درج ذیل ہیں:
(1)…غیرِ حق میں صَرف کرنا۔ (2) …اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کی حد سے بڑھنا۔ (3) …ایسی بات میں خرچ کرنا جو شرعِ مُطَہَّر یا مُرَوّت کے خلاف ہو ،اول حرام ہے اور ثانی مکروہِ تنزیہی۔ (4) …طاعتِ الٰہی کے غیر میں صرف کرنا۔ (5) …شرعی حاجت سے زیادہ استعمال کرنا۔ (6) …غیرِ طاعت میں یا بلا حاجت خرچ کرنا۔ (7)…دینے میں حق کی حد سے کمی یا زیادتی کرنا۔ (8) …ذلیل غرض میں کثیر مال خرچ کردینا۔ (9) …حرام میں سے کچھ یا حلال کو اِعتدال سے زیادہ کھانا۔ (10) …لائق وپسندیدہ بات میں لائق مقدار سے زیادہ صرف کردینا ۔ (11) …بے فائدہ خرچ کرنا۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِان تعریفات کو ذکر کرنے اور ان کی تحقیق و تفصیل بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں ’’ہمارے کلام کا ناظر خیال کرسکتا ہے کہ ان تمام تعریفات میں سب سے جامع ومانع وواضح تر تعریف اول ہے اور کیوں نہ ہو کہ یہ اُس عبداللّٰہ کی تعریف ہے جسے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ علم کی گٹھری فرماتے اور جو خلفائے اربعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکے بعد تمام جہان سے علم میں زائد ہے اور جوابو حنیفہ جیسے امام الائمہ کا مُورثِ علم ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳/۱۷۲۔