Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
444 - 601
ترجمۂکنزُالعِرفان: تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ اگر تم لائق ہوئے تو بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔
{رَبُّکُمْ اَعْلَمُ: تمہارا رب خوب جانتا ہے۔} آیت کا مفہوم اپنے اِطلاق پر بھی ہے اور والدین کی خدمت کے حوالے سے لیں تو معنی یہ ہوگا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں والدین کی اطاعت کا کتنا ارادہ ہے اور اُن کی خدمت کا کتنا ذوق ہے۔ ہاں اگر یہ ہوا کہ  تمہارے دلوں میں توماں باپ کی خدمت کا شوق تھا لیکن اس کا موقعہ نہیں ملا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس پر پکڑ نہ فرمائے گا کیونکہ وہ ارادوں اور نیتوں کوجانتا ہے اور یونہی تم واقعی نیک تھے اور اس کے باوجود  تم سے والدین کی خدمت میں کوئی کمی واقع ہوگئی اور تم نے توبہ کرلی تو اللّٰہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول فرمالے گا کیونکہ وہ بخشنے والا ہے۔(1)
	یہاں یہ یاد رہے کہ حقوقِ والدین میں اگر کوئی کمی ہوئی تو جب تک اس کی تَلافی ممکن ہو تلافی بھی کرنا ضروری ہے جیسے اگر ان کا دل دکھایا تو ان سے معافی مانگنا بھی ضروری ہے۔ 
وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیۡنَ وَ ابْنَ السَّبِیۡلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیۡرًا ﴿۲۶﴾
 ترجمۂکنزالایمان:اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے اور مسکین اور مسافر کو اور فضول نہ اڑا۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور رشتہ داروں کو ان کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو (بھی دو) اور فضول خرچی نہ کرو۔
{وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ:اور رشتہ داروں کو ان کا حق دو۔} اس آیت میں والدین کے بعد دیگر لوگوں کے حقوق بیان کئے جا رہے ہیں چنانچہ سب سے پہلے رشتے داروں کا فرمایا کہ انہیں ان کا حق دو یعنی اُن کے ساتھ صِلہ رحمی کرو ، ان سے محبت سے پیش آؤ، ان سے میل جول رکھو اور ان کی خبر گیری کرتے رہو اور ضرورت کے موقع پر ان کی مدد کرو اور ان کے ساتھ ہر جگہ حسنِ سلوک سے پیش آؤ۔ رشتہ داروں کا خرچ اٹھانے سے متعلق حکمِ شرعی یہ ہے کہ اگر رشتے دار مَحارم میں سے ہوں اور محتاج ہوجائیں تو اُن کا خرچ اُٹھانا یہ بھی ان کا حق ہے اور صاحب ِاِستطاعت رشتہ دار پر لازم وواجب ہے۔(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۶۲۱، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳/۱۷۱-۱۷۲، ملتقطاً۔
2…خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳/۱۷۲۔