Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
446 - 601
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ وَعَنْہُ وَعَنْہُمْ اَجْمَعِیْن۔(1)
تَبذیر اوراِ سراف میں فرق:
 	اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے تبذیر اور اسراف میں فرق سے متعلق جو کلام ذکر فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ تبذیر کے بارے میں علما ئِ کرام کے دو قول ہیں:
(1)…تبذیر اور اسراف دونوں کے معنی ناحق صَرف کرنا ہیں۔ یہی صحیح ہے کہ یہی قول حضرت عبداللّٰہ بن مسعود اور حضرت عبداللّٰہ بن عباس اور عام صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکا ہے۔
(2)…تبذیر اور اسراف میں فرق ہے، تبذیر خاص گناہوں میں مال برباد کرنے کا نام ہے۔
	 اس صورت میں اسراف تبذیر سے عام ہوگا کہ ناحق صرف کرنا عَبث میں صرف کرنے کو بھی شامل ہے اور عبث مُطْلَقاً گناہ نہیں توچونکہ اسراف ناجائز ہے ا س لئے یہ خرچ کرنا معصیت ہوگا مگر جس میں خرچ کیا وہ خود معصیت نہ تھا۔ اور عبارت ’’لَاتُعْطِ فِی الْمَعَاصِیْ‘‘کا ظاہر یہی ہے کہ وہ کام خود ہی معصیت ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ تبذیر کے مقصود اور حکم دونوں معصیت ہیں اور اسراف کو صرف حکم میں معصیت لازم ہے۔(2)
اِنَّ الْمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ ؕ وَکَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوۡرًا ﴿۲۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ 
{ اِخْوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ:شیطان کے بھائی۔}ا س سے پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا کہ فضول خرچی نہ کرو جبکہ اس آیت میں فرمایا کہ بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں کیونکہ یہ ان کے راستے پر چلتے ہیں اور چونکہ شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے، لہٰذا اُس کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…فتاوی رضویہ، ۱/۶۹۶-۶۹۷۔
2…فتاوی رضویہ، ۱/۶۹۷-۶۹۸، ملخصاً۔
3…مدارک، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۶۲۱، ملخصاً۔