{وَ اخْفِضْ لَہُمَا: اور ان کیلئے جھکا کر رکھ۔} اس آیت میں مزید حکم دیا کہ والدین کے ساتھ نرمی اور عاجزی کے ساتھ پیش آؤ اور ہر حال میں ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو کیونکہ اُنہوں نے تیری مجبوری کے وقت تجھے محبت سے پرورش کیا تھا اور جو چیز اُنہیں درکار ہو وہ اُن پر خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو۔(1) گویا زبانی کے ساتھ ساتھ عملی طور پربھی ان سے اچھا برتاؤ کرو اوریونہی مالی طور پر بھی ان سے اچھا سلوک کرو کہ ان پر خرچ کرنے میں تأمُّل نہ کرو ۔
{وَقُلْ: اور کہو۔} حقوقِ والدین کے بیان کے آخر میں فرمایا کہ ان کیلئے دعا کرو ۔ گویا یہ فرمایا گیا کہ دنیا میں بہتر سے بہترین سلوک اور خدمت میں کتنا بھی مبالغہ کرلیا جائے لیکن والدین کے احسان کا حق ادا نہیں ہوتا، اس لئے بندے کو چاہیے کہ بارگاہِ الٰہی میں اُن پر فضل و رحمت فرمانے کی دعا کرے اور عرض کرے کہ یارب! میری خدمتیں اُن کے احسان کی جزا نہیں ہوسکتیں تو اُن پر کرم کرکہ اُن کے احسان کا بدلہ ہو۔(2)
والدین کے لئے روزانہ دعا کرنی چاہئے:
والدین کیلئے دعا کو اپنے روزانہ کے معمولات میں داخل کرلینا چاہیے اور ان کی صحت و تندرستی، ایمان و عافیت کی سلامتی کی دعا کرنی چاہیے اور اگر فوت ہوگئے ہوں تو ان کیلئے قبر میں راحت، قیامت کی پریشانیوں سے نجات ، بے حساب بخشش اور جنت میں داخلے کی دعا کرنی چاہیے۔ یاد رہے کہ اگر والدین کافر ہوں تو اُن کے لئے ہدایت و ایمان کی دعا کرنی چاہیے کہ یہی اُن کے حق میں رحمت ہے۔ اور دنیاوی اعتبار سے اچھا سلوک ان کے ساتھ بھی لازم ہے۔
رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیۡ نُفُوۡسِکُمْ ؕ اِنۡ تَکُوۡنُوۡا صٰلِحِیۡنَ فَاِنَّہٗ کَانَ لِلۡاَوّٰبِیۡنَ غَفُوۡرًا ﴿۲۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے اگر تم لائق ہوئے تو بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۴، ۳/۱۷۱، ملخصاً۔
2…مدارک، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۴، ص۶۲۰-۶۲۱، ملخصاً۔