Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
439 - 601
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پھر ماں کو بتایا۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ پھر کون؟ ارشاد فرمایا: تمہارا والد۔(1)
(2)…حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’زیادہ احسان کرنے والا وہ ہے جو اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ باپ کے نہ ہونے(یعنی باپ کے انتقال کر جانے یا کہیں چلے جانے) کی صورت میں احسان کرے۔(2)
(3)… حضرت اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہافرماتی ہیں ’’جس زمانہ میں قریش نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے معاہدہ کیا تھا ،میری ماں جو مشرکہ تھی میرے پاس آئی، میں نے عرض کی، یا رسولَ اللّٰہ !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،  میری ماں آئی ہے اور وہ اسلام کی طرف راغب ہے یا وہ اسلام سے اِعراض کیے ہوئے ہے، کیا میں اس کے ساتھ سلوک کروں؟ ارشاد فرمایا: ’’اس کے ساتھ سلوک کرو۔(3)یعنی کافرہ ماں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کیا جائے گا۔
(4)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: میں جنت میں گیا اس میں قرآن پڑھنے کی آواز سنی، میں نے پوچھا :یہ کون پڑھتا ہے؟ فرشتوں نے کہا، حارثہ بن نعمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں۔ حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’یہی حال ہے احسان کا، یہی حال ہے احسان کا۔(4)اور شعب الایمان کی روایت میں مزید یہ بھی ہے کہ ’’ حارثہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنی ماں کے ساتھ بہت بھلائی کرتے تھے۔(5)
(5)…حضرت ابو اسید بن مالک  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک سے یہ بات ہے کہ اولاد ان کے انتقال کے بعد ان کے لئے دعائے مغفرت کرے۔(6)
(6)… اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں(جس کا خلاصہ ہے کہ )’’ایک صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ رسالت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب الادب، باب من احقّ الناس بحسن الصحبۃ، ۴/۹۳، الحدیث: ۵۹۷۱۔
2…مسلم،کتاب البرّ والصلۃ والآداب،باب فضل صلۃ اصدقاء الاب والامّ ونحوہما، ص۱۳۸۲، الحدیث: ۱۳(۲۵۵۲)۔
3…بخاری، کتاب الادب، باب صلۃ الوالد المشرک، ۴/۹۶، الحدیث: ۵۹۷۸۔
4…شرح السنّۃ، کتاب البرّ والصلۃ، باب برّ الوالدین، ۶/۴۲۶، الحدیث: ۳۳۱۲۔
5…شعب الایمان، الخامس والخمسون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۶/۱۸۴، الحدیث: ۷۸۵۱۔
6…کنز العمال، حرف النون، کتاب النکاح، قسم الاقوال، الباب الثامن فی برّ الوالدین،  ۸/۱۹۲، الحدیث: ۴۵۴۴۱، الجزء السادس عشر۔