Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
438 - 601
میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہیں جو کام کرنے کااللّٰہ تعالیٰ نے حکم دیا انہیں کرو اور جن کاموں سے منع کیا ہے ان سے بچو۔ اس میں سیّد المرسَلینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کا اقرار، ان سے محبت اور ان کی تعظیم کرنا بھی داخل ہیں کیونکہ اس کا بھی اللّٰہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
’’قُلْ اِنۡ کُنۡتُمْ تُحِبُّوۡنَ اللہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللہُ  ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اے حبیب!فرمادو کہ اے لوگو! اگر تم اللّٰہسے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبرداربن جاؤ اللّٰہ تم سے محبت فرمائے گا۔(2)
{وَ بِالْوَالِدَیۡنِ اِحْسَانًا: اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔} اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم دینے کے بعد اس کے ساتھ ہی ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ،اس میں حکمت یہ ہے کہ انسان کے وجود کا حقیقی سبب اللّٰہ تعالیٰ کی تخلیق اور اِیجاد ہے جبکہ ظاہری سبب اس کے ماں باپ ہیں ا س لئے اللّٰہ تعالیٰ نے پہلے انسانی وجود کے حقیقی سبب کی تعظیم کا حکم دیا،پھر اس کے ساتھ ظاہری سبب کی تعظیم کا حکم دیا ۔ ا ٓیت کا معنی یہ ہے کہ تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے حکم فرمایا کہ تم اپنے والدین کے ساتھ انتہائی اچھے طریقے سے نیک سلوک کرو کیونکہ جس طرح والدین کا تم پر احسان بہت عظیم ہے تو تم پر لازم ہے کہ تم بھی ان کے ساتھ اسی طرح نیک سلوک کرو۔(3)
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے سے متعلق12 اَحادیث:
	اس آیت میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کا حکم دیا گیا، اسی مناسبت سے ترغیب کے لئے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے اور ان کے حقوق سے متعلق 12 اَحادیث یہاں ذکر کی جاتی ہیں
(1)… حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، کہ ایک شخص نے عرض کی، یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، سب سے زیادہ حسنِ صحبت (یعنی احسان) کا مستحق کون ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’تمہاری ماں (یعنی ماں کا حق سب سے زیادہ ہے۔) انہوں نے پوچھا، پھر کون؟ ارشاد فرمایا :’’تمہاری ماں۔ انہوں نے پوچھا، پھر کون؟ حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…اٰل عمران:۳۱۔
2…صاوی، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۳، ۳/۱۱۲۵۔
3…تفسیرکبیر، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۳، ۷/۳۲۱،۳۲۳۔