Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
440 - 601
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ میں حاضر ہوکر عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہ وَسَلَّمَ، میں اپنے ماں باپ کے ساتھ زندگی میں نیک سلوک کرتا تھا ، وہ انتقال کرگئے ہیں تو اب ان کے ساتھ نیک سلوک کی کیا صورت ہے؟ ارشاد فرمایا ’’انتقال کے بعد نیک سلوک سے یہ ہے کہ تواپنی نماز کے ساتھ ان کے لئے بھی نماز پڑھے اور اپنے روزوں کے ساتھ ان کے لئے روزے رکھے۔‘‘ یعنی جب اپنے ثواب ملنے کے لئے کچھ نفلی نماز پڑھے یاروزے رکھے تو کچھ نفل نماز ان کی طرف سے کہ انہیں ثواب پہنچائے یانماز روزہ جونیک عمل کرے ساتھ ہی انہیں ثواب پہنچنے کی بھی نیت کرلے کہ انہیںبھی ثواب ملے گا اور تیرا بھی کم نہ ہوگا۔(1)
(7)…حضرت عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسول کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’پروردگار کی خوشنودی باپ کی خوشنودی میں ہے اور پروردگار کی ناخوشی باپ کی ناراضی میں ہے۔‘‘  (2)
(8)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰیعَنْہُ سے روایت ہے، رسولُاللّٰہ صَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت والد کی اطاعت کرنے میں ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی والد کی نافرمانی کرنے میں ہے۔(3)
(9)…حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، رسولِ کریمصَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’تین شخص جنت میں نہ جائیں گے (1) ماں باپ کا نافرمان۔ (2) دیّوث ۔ (3) مَردوں کی وضع بنانے والی عورت۔(4) 
(10)… حضرت ابو بکرہ  رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰیعَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ماں باپ کی نافرمانی کے علاوہ اللّٰہ تعالیٰ ہر گناہ میں سے جسے چاہے معاف فرما دے گا جبکہ ماں باپ کی نافرمانی کی سزا انسان کو موت سے پہلے زندگی ہی میں مل جائے گی۔(5) 
(11)… حضرت عبداللّٰہ بن عمرو  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ یہ بات کبیرہ گناہوں میں ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…فتاوی رضویہ، رسالہ: الحقوق لطرح العقوق، ۲۴/۳۹۵، ملخصاً۔
2…ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء من الفضل فی رضا الوالدین، ۳/۳۶۰، الحدیث:  ۱۹۰۷۔
3…معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱/۶۴۱، الحدیث: ۲۲۵۵۔
4…معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: ابراہیم، ۲/۴۳، الحدیث: ۲۴۴۳۔
5…شعب الایمان، الخامس والخمسون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی عقوق الوالدین، ۶/۱۹۷، الحدیث: ۷۸۹۰۔