کوشش کرتے ہیں تو اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں بھی عطا فرمایا ہے بلکہ ہمارے زمانے میں تودُنْیوی ترقی میں وہ مسلمانوں سے بہت آگے ہیں اور یونہی جو مسلمان محنت کرتا ہے وہ بھی اپنی محنت کا صلہ پاتا ہے ۔ الغرض دنیا میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سب کو عطا فرما رہا ہے ، سب کو روزی مل رہی ہے، دنیا میں سب اس سے فیض اُٹھاتے ہیں نیک ہوں یا بد البتہ انجام ہر ایک کا اس کے حسبِ حال ہوگا ،اور اگلی آیت میں فرمایا کہ دیکھو! ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر مال ، عزت، شہرت، کمال میں بڑائی دی ہے لیکن ان تمام چیزوں کے ساتھ یہ حقیقت ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ درجات اور فضیلت کے اعتبار سے آخرت ہی سب سے بڑی چیز ہے ۔
وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالْوَالِدَیۡنِ اِحْسَانًا ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنۡدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوْکِلَاہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلۡ لَّہُمَا قَوْلًاکَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اُف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت ، نرم بات کہنا۔
{وَقَضٰی رَبُّکَ: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی 16 آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے تقریباً 25کاموں کا حکم دیا ہے ۔ آیت کے ابتدائی حصے کا معنی یہ ہے کہ تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے حکم فرمایا کہ تم اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت