Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
436 - 601
اس کی شاخیں۔ صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی  رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے یہاں بڑی پیاری بات ارشاد فرمائی کہ  اس آیت سے معلوم ہوا کہ عمل کی مقبولیت کے لئے تین چیزیں درکار ہیں: ایک تو طالبِ آخرت ہونا یعنی نیت نیک۔ دُوسرے سعی یعنی عمل کو باہتمام اس کے حقوق کے ساتھ ادا کرنا۔ تیسری ایمان جو سب سے زیادہ ضروری ہے۔(1)
کُلًّا نُّمِدُّ ہٰۤؤُلَآءِ وَ ہٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّکَ ؕ وَمَا کَانَ عَطَـآءُ رَبِّکَ مَحْظُوۡرًا ﴿۲۰﴾ اُنۡظُرْ کَیۡفَ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ ؕ وَ لَلۡاٰخِرَۃُ اَکْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَکْبَرُ تَفْضِیۡلًا ﴿۲۱﴾ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوۡمًا مَّخْذُوۡلًا ﴿٪۲۲﴾
 ترجمۂکنزالایمان: ہم سب کو مدد دیتے ہیں ان کو بھی اور ان کو بھی تمہارے رب کی عطا سے اور تمہارے رب کی عطا پر روک نہیں۔ دیکھو ہم نے ان میں ایک کو ایک پر کیسی بڑائی دی اور بیشک آخرت درجوں میں سب سے بڑی اور فضل میں سب سے اعلیٰ ہے۔اے سننے والے اللّٰہ کے ساتھ دوسرا خدا نہ ٹھہرا کہ تو بیٹھ رہے گا مذمت کیا جاتا بیکس۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہم آپ کے رب کی عطا سے اِن (دنیا کے طلبگاروں) اور اُن ( آخرت کے طلبگاروں)سب کی مدد کرتے ہیں اور تمہارے رب کی عطا پر کوئی روک نہیں۔ دیکھو! ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر کیسی بڑائی دی اور بیشک آخرت درجات کے اعتبار سے سب سے بڑی ہے اور فضیلت میں سب سے بڑی ہے۔اے سننے والے! اللّٰہ کے ساتھ دوسرامعبود نہ ٹھہرا ،ورنہ تُو مذموم ، بے یارو مددگار ہو کر بیٹھا رہے گا۔ 
{کُلًّا نُّمِدُّ: ہم سب کی مدد کرتے ہیں۔} اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ جو دنیا چاہتے ہیں اور جو طالبِ آخرت ہیں ہم سب کی مدد کرتے ہیں۔(2) چنانچہ دیکھ لیں کہ کفار اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمن ہیں لیکن وہ چونکہ دنیا کے طالب ہیں اور اس کیلئے 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خزائن العرفان، بنی اسرائیل، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۵۲۹۔
2…خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۲۰، ۳/۱۷۰۔