تباہ نہ کرے ۔ حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں بدترین درجے والا وہ بندہ ہے جو دوسروں کی دنیا کی خاطر اپنی آخرت برباد کردے۔(1) یاد رہے کہ مومنِ کامل کا دل دنیا میں رہتا ہے مگر دل میں دنیا نہیں رہتی بلکہ دل میں صرف دین رہتا ہے اور اگر دل میں دین کی بجائے دنیا آ جائے تو وہ ہلاک ہو جاتا ہے جیسے کشتی پانی میں جائے تو تیرے گی لیکن پانی کشتی میں آجائے تو کشتی ڈوب جائے گی۔
وَ مَنْ اَرَادَ الۡاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَہَا سَعْیَہَا وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُہُمۡ مَّشْکُوۡرًا ﴿۱۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور جو آخرت چاہے اور اس کی سی کوشش کرے اور ہو ایمان والا تو انہیں کی کوشش ٹھکانے لگی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔
{وَ مَنْ اَرَادَ الۡاٰخِرَۃَ: اور جو آخرت چاہے۔} اس سے پہلی آیت میں طالب ِ دنیا کا بیان کیا گیا جبکہ اس آیت میں طالب ِ آخرت کا بیان ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جو آخرت کا طلبگار ہے اور اس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے یعنی نیک اعمال بجالاتا ہے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہ وہ آدمی ہے جس کا عمل مقبول ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال کا اچھا صِلہ دیا جائے گا۔
عمل کی مقبولیت کے لئے درکار تین چیزیں:
اس آیت میں مومن ہونے کی شرط کا بیان ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کے بغیر کوئی نیکی قبول نہیں، نیکیوں کے لئے ایمان ایسا ضروری ہے جیسے نماز کے لئے وضو، یا بہترین غذا کے لئے زہر سے خالی ہونا۔ ایمان جڑ ہے اور اعمال
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب اذا التقی المسلمان بسیفہما، ۴/۳۳۹، الحدیث: ۳۹۶۶۔