Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
426 - 601
بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس آیت میں انسان سے کافر مراد ہے اور برائی کی دعا سے اس کا عذاب کی جلدی کرنا مراد ہے ، چنانچہ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ نضر بن حارث کافر نے کہا، یارب! اگر یہ دین ِاسلام تیرے نزدیک حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا دردناک عذاب بھیج۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اس کی یہ دعا قبول کرلی اور اُس کی گردن ماری گئی۔(1)
جلد بازی کی مذمت:
	اس آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ آدمی بڑا جلد باز ہے۔ اسے سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے توہمارے معاشرے میں لوگوں کی ایک تعداد ایسی نظر آتی ہے جو دینی اور دنیوی دونوں طرح کے کاموں میں نامطلوب جلد بازی سے کام لیتے ہیں، جیسے وضو کرنے میں ،نماز ادا کرنے میں، تلاوتِ قرآن کرنے میں، روزہ افطار کرنے میں ، تراویح ادا کرنے میں، قربانی کرنے میں، ذبح کے بعد جانور کی کھال اتارنے میں، ارکانِ حج ادا کرنے میں، دعا کی قبولیت میں، بد دعا کرنے میں، کسی کو گناہگار قرار دینے میں، کسی کے خلاف بد گمانی کرنے میں، دنیا طلب کرنے میں، نہ ملنے پر شکوہ کرنے میں، رائے قائم کرنے میں، کسی سے جھگڑا مول لینے میں، کسی پرغصہ نافذ کرنے میں، کسی کے خلاف یا کسی کام سے متعلق فیصلہ کرنے میں، گاڑی چلانے میں، گاڑی سے اترنے یا چڑھنے میں اور روڈ پار کرنے وغیرہ بے شمار دینی اور دُنیوی اُمور میں لوگ جلد بازی کرتے ہیں اور ا س کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات لوگوں کی عبادات ہی ضائع ہوجاتی ہیں اور کبھی و ہ دنیوی معاملات میں بھی شدید نقصان سے دوچار ہو جاتے ہیں اور ان کے پاس ندامت اور پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔ ایسے حضرات کو چاہئے کہ وہ درج ذیل دو اَحادیث سے نصیحت حاصل کریں اور جلد بازی کی آفات اور اس کے نقصانات سے خود کو بچانے کی کوشش کریں ۔
	حضرت سہل بن سعد ساعدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’بُردباری اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔(2)
	 حضرت عقبہ بن عامررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۱۱، ص۶۱۷۔
2…ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی التّأنّی والعجلۃ، ۳/۴۰۷، الحدیث:۲۰۱۹۔