کی بشارت دیتا ہے۔ (3) آخرت کے منکرین کو درناک عذاب کی خبر دیتا ہے۔(1)
وَیَدْعُ الۡاِنۡسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَہٗ بِالْخَیۡرِ ؕ وَکَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا ﴿۱۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور آدمی برائی کی دعا کرتا ہے جیسے بھلائی مانگتا ہے اور آدمی بڑا جلد باز ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (کبھی ) آدمی برائی کی دعا کربیٹھتا ہے جیسے وہ بھلائی کی دعا کرتا ہے اور آدمی بڑا جلد باز ہے۔
{وَیَدْعُ الۡاِنۡسَانُ بِالشَّرِّ: اور آدمی برائی کی دعا کردیتا ہے۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی جس طرح بھلائی کی دعائیں مانگتا ہے اسی طرح بعض اوقات برائی کی دعا بھی کردیتا ہے جیسے کئی مرتبہ غصے میں آکر اپنے اور اپنے گھر والوں کے اور اپنے مال واولاد کے خلاف دعا کردیتا ہے ،غصہ میں آکر ان سب کو کوستا ہے اور اُن کے لئے بددعائیں کرتا ہے تو یہ انسان کی جلد بازی ہے( اور جلد بازی عموماً نقصان دیتی ہے ۔) اگر اللّٰہ تعالیٰ اس کی یہ بددعا ئیں قبول کرلے تووہ شخص یا اس کے اہل و مال ہلاک ہوجائیں لیکن اللّٰہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کو قبول نہیں فرماتا۔(2) جیسا کہ ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وَلَوْ یُعَجِّلُ اللہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَہُمۡ بِالْخَیۡرِ لَقُضِیَ اِلَیۡہِمْ اَجَلُہُمْ ‘‘(3)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور اگر اللّٰہ لوگوں پرعذاب اسی طرح جلدی بھیج دیتا جس طرح وہ بھلائی جلدی طلب کرتے ہیں تو ان کی مدت ان کی طرف پوری کردی جاتی۔
بد دعا کرنے سے بچیں:
اس سے معلوم ہوا کہ غصے میں اپنے یا کسی مسلمان کیلئے بددعا نہیں کرنی چاہیے اورہمیشہ منہ سے اچھی بات نکالنی چاہیے کہ نہ معلوم کونسا وقت قبولیت کا ہو۔ ہمارے معاشرے میں عموماً مائیں بچوں کو طرح طرح کی بددعائیں دیتی رہتی ہیں، مثلا تیرا بیڑہ غرق ہو، تو تباہ ہوجائے، تو مرجائے، تجھے کیڑے پڑیں وغیرہ، وغیرہ، اس طرح کے جملوں سے احتراز لازم ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۹-۱۰، ۷/۳۰۳-۳۰۴، مدارک، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۹-۱۰، ص۶۱۷، ملتقطاً۔
2…روح البیان، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۱۱، ۵/۱۳۷، خازن، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۱۱، ۳/۱۶۷، ملتقطاً۔
3…یونس: ۱۱۔