عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تکذیب کی تو اُن پر ذلت مسلط کردی گئی۔(1) اور فرمادیا گیا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے یا لوگوں کی طرف سے کوئی سہارا مل گیا تو ان کی کچھ بچت ہوجائے گی ورنہ ان پر ذلت مسلط کردی گئی ہے، چنانچہ ہمارے زمانے میں یہودیوں کو دیکھ لیں کہ انہیں مغربی ممالک کا سہارا حاصل ہے ، اگر وہ ہٹ جائے تو ایک دن میں اپنی اوقات دیکھ لیں گے۔
اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہۡدِیۡ لِلَّتِیۡ ہِیَ اَقْوَمُ وَیُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیۡنَ الَّذِیۡنَ یَعْمَلُوۡنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ اَجْرًاکَبِیۡرًا ۙ﴿۹﴾ وَّاَنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ اَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿٪۱۰﴾ ترجمۂکنزالایمان:بیشک یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے اور خوشی سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے کام کریں کہ ان کے لیے بڑا ثواب ہے۔ اور یہ کہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے اور نیک اعمال کرنے والے مومنوں کو خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا ثواب ہے۔ اور یہ کہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
{اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ: بیشک یہ قرآن۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک کی تین خوبیاں بیان فرمائی ہیں (1) قرآن سب سے سیدھا راستہ دکھاتا ہے اوروہ راستہ اللّٰہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرنا، اس کے رسولوں پر ایمان لانا اور اُن کی اطاعت کرنا ہے۔ (یہی راستہ سیدھا جنت تک اور خدا تک پہنچانے والا اور اللّٰہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندوں یعنی ولیوں اور ان نیک بندوں کا ہے جن کی پیروی کا قرآنِ پاک میں حکم دیا گیا ہے) ۔ (2) نیک اعمال کرنے والے مومنوں کو جنت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۸، ۵/۱۳۴-۱۳۵، ملخصاً۔