سے ان کی شوکت اوراِقتدار زوال پذیر ہونا شروع ہو گیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جس میں اسلامی ملکوں اور شہروں کو تباہی وبربادی کے ایسے طوفان کا سامنا کرنا پڑا کہ لاکھوں افراد کی آبادی پر مشتمل شہروں میں کوئی زندہ انسان نظر نہ آتا تھا اوروحشی پرندے اور جانور ان کی لاشوں پر گوشت حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے گھوم رہے تھے۔ پھر جب مسلمان اپنی بے عملی چھوڑ کر عمل کی طرف مائل ہوئے اور قرآن و حدیث کی تعلیمات کو انہوں نے حرز جاں بنایا تو اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں پھر دنیا میں طاقت اور سلطنت عطا فرما دی اور مسلمان اپنی کھوئی ہوئی شان و شوکت بحال کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوئے، لیکن جب پھر مسلمانوں میں بد عملی کا رواج ہوا اور مسلمان شراب ورَباب کی مستی میں گم ہو گئے اور نفسانی لذات کے حصول کو اپنا مشغلہ بنا لیا اور مال و دولت کی حرص و ہَوس کا شکار ہو گئے تو اس کے بعد مسلمانوں کا جو حال ہوا ہے وہ صاحبِ نظر سے پوشیدہ نہیں،اگر اب بھی مسلمان نہ سنبھلے اور انہوں نے اپنی عملی حالت کو نہ سدھارا تو حالات اس سے بھی بدتر ہوجائیں گے۔
عَسٰی رَبُّکُمْ اَنۡ یَّرْحَمَکُمْ ۚ وَ اِنْ عُدۡتُّمْ عُدْنَا ۘ وَ جَعَلْنَا جَہَنَّمَ لِلْکٰفِرِیۡنَ حَصِیۡرًا ﴿۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: قریب ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے اور اگر تم پھر شرارت کرو تو ہم پھر عذاب کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کا قید خانہ بنایا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: قریب ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے اور اگر تم پھر دوبارہ (شرارت) کرو گے تو ہم دوبارہ ( سزا) دیں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کیلئے قید خانہ بنادیا ہے۔
{اَنْ یَّرْحَمَکُمْ:کہ تم پر رحم فرمائے۔} یعنی اے بنی اسرائیل! دوسری مرتبہ کے بعد بھی اگر تم دوبارہ توبہ کرلو اور گناہوں سے باز آجاؤ تو ہم تم پر پھر اپنا رحم و کرم کریں گے لیکن اگر تم نے تیسری مرتبہ پھر شرارت کی اور فتنہ وفساد کیا توہم پھر تمہیں اس کی سزا دیں گے چنانچہ پھر ایسا ہی ہوا کہ انہوں نے تیسری مرتبہ بھی وہی حرکات کیں اور زمانۂ مصطفوی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی