اعلیٰ طریقے سے پایا جاتا تھا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاللّٰہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ شکر گزار بندے تھے، چنانچہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب کھانا تَناوُل فرماتے اور پانی پیتے، جب بیتُ الخلا سے باہر تشریف لاتے، جب نیا لباس زیبِ تن فرماتے ، جب آئینہ دیکھتے، جب بستر پر تشریف لاتے ، جب نیند سے بیدار ہوتے، جب سواری پر سوار ہوتے ، جب کوئی مسلمان ہوتا ،جب کوئی خوشی کی خبر ملتی، جب کوئی پسندیدہ چیز دیکھتے اور جب کسی مصیبت زدہ کو دیکھتے تو خود کو عافیت ملنے پر اللّٰہ تعالیٰ کی حمد بجا لاتے اور اس کا شکر ادا کیا کرتے تھے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں :رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنماز میں اس قدر قیام فرماتے کہ آپ کے مبارک پاؤں سوج جاتے ۔ (ایک دن) حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے عرض کی : یا رسولَ اللّٰہ ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،آپ ایسا کر رہے ہیں حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ بخش دئیے ہیں!حضور پُر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’اے عائشہ!(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا)،’’اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا‘‘کیا میں (اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا) شکر گزار بندہ نہ بنوں۔(1)
حضرت عروہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَیہ دعا مانگا کرتے تھے ’’اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ‘‘اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، تو اپنے ذکر ،اپنے شکر اور اپنی عبادت اچھی طرح کرنے پر میری مدد فرما(2)۔(3)
وَقَضَیۡنَاۤ اِلٰی بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الۡاَرْضِ مَرَّتَیۡنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّاکَبِیۡرًا ﴿۴﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں وحی بھیجی کہ ضرور تم زمین میں دوبار فساد مچاؤ گے اور ضرور بڑا غرور کرو گے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب اکثار الاعمال والاجتہاد فی العبادۃ، ص۱۵۱۵، الحدیث: ۸۱(۲۸۲۰)۔
2…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الدعاء، امر النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم عمر بن الخطاب ان یدعوا بہ، ۷/۱۳۴، الحدیث: ۲۔
3…شکر کرنے کی ترغیب پانے کے لئے کتاب’’شکر کے فضائل‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ بہت مفید ہے۔