Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
419 - 601
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے بنی اسرائیل کی طرف کتاب میں وحی بھیجی کہ ضرور تم زمین میں دومرتبہ فساد کرو گے اور تم ضرور بڑا تکبرکرو گے۔ 
{فِی الْکِتٰبِ: کتاب میں۔} اس آیت میں بنی اسرائیل کے بارے میں بیان کیا گیا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں تورات میں یہ غیب کی خبر دی تھی کہ تم زمین میں یعنی سرزمینِ شام میں دو مرتبہ فساد کرو گے ۔ یہ غیب کی خبر پوری ہوئی اور جس طرح اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا تھا ویسے ہی وقوع میں آیا کہ بنی اسرائیل نے فساد کیا، ظلم و بغاوت پر اترے اور اس کا انجام دیکھنے کے بعد پھر سنبھلے لیکن پھر دوبارہ فساد میں مبتلا ہوگئے اور ہر مرتبہ فساد کے نتیجے میں ذلیل و رسوا ہوئے ۔
فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوۡلٰىہُمَا بَعَثْنَا عَلَیۡکُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّیَارِ ؕ وَکَانَ وَعْدًا مَّفْعُوۡلًا ﴿۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر جب ان میں پہلی بار کا وعدہ آیا ہم نے تم پر اپنے کچھ بندے بھیجے سخت لڑائی والے تو وہ شہروں کے اندر تمہاری تلاش کو گھسے اور یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہونا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب ان دو مرتبہ میں سے پہلی بار کا وعدہ آیا توہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے جو سخت لڑائی والے تھے تو وہ شہروں کے اندر تمہاری تلاش کیلئے گھس گئے اور یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہونا تھا۔
{وَعْدُ اُوۡلٰىہُمَا: ان دو مرتبہ میں سے پہلی بار کا وعدہ۔}ا س آیت میں گزشتہ آیت کی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ جب دو مرتبہ کے فساد میں سے پہلی مرتبہ کے فساد کا وقت آیا تو فساد کی صورت یہ بنی کہ انہوں نے توریت کے احکام کی مخالفت کی اور گناہ کے کاموں میں پڑگئے اور حرام چیزوں کے مُرتکب ہونے لگے حتّٰی کہ انہوں نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے نبی حضرت شعیائعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ایک قول کے مطابق حضرت ارمیاء عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قتل کیا اور جب بنی اسرائیل نے یہ فساد کیا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ان پر بہت زور وقوت والے لشکروں کو مُسَلَّط کردیا تاکہ وہ انہیں لوٹیں اور انہیں قتل کریں، قید کریں (اور ذلیل و رسوا