کو کارساز نہ بناؤ۔
{وَاٰتَیۡنَا مُوۡسَی الْکِتٰبَ:اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی ۔} اس سے پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے اس اکرام کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر فرمایا اور اس آیت میں وہ اپنے اس اکرام کا ذکر فرما رہا ہے جو اس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر فرمایا چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کتاب تورات عطا فرمائی اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنادیا کہ وہ اس کتاب کے ذریعے انہیں جہالت اور کفر کے اندھیروں سے علم اور دین کے نور کی طرف نکالتے ہیں تاکہ اے بنی اسرائیل ! تم میرے سوا کسی کو کارساز نہ بناؤ۔(1)
ذُرِّیَّۃَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوۡحٍ ؕ اِنَّہٗ کَانَ عَبْدًا شَکُوۡرًا ﴿۳﴾ ترجمۂکنزالایمان: اے ان کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا ہے بیشک وہ بڑا شکر گزار بندہ تھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ان لوگوں کی اولاد جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا ،وہ یقینابہت شکرگزار بندہ تھا ۔
{ذُرِّیَّۃَ مَنْ: اے ان لوگوں کی اولاد۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ان لوگوں کی اولاد! جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا اور طوفانِ نوح سے محفوظ فرمایا ، تم بھی تمام حالات میں اللّٰہ تعالیٰ کے عبادت گزار اور شکر گزار بندے بن جاؤ جیسے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تھے کہ وہ ہر حال میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّکا شکر ادا کرنے والے تھے۔(2)
حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شکر گزاری:
حضرت نوحعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بطورِ خاص شکر گزار بندہ فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب کوئی چیزکھاتے ،پیتے یا لباس پہنتے تو اللّٰہ تعالیٰ کی حمد کرتے اور ا س کا شکر بجا لاتے تھے۔(3)
تاجدارِ رسالتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی شکر گزاری :
سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذاتِ اقدس میں حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ وصف انتہائی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۲، ۷/۲۹۷۔
2…جلالین مع صاوی، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۳، ۳/۱۱۱۳۔
3…خازن، الاسرائ، تحت الآیۃ: ۳، ۳/۱۶۱۔