Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
396 - 601
دے کر ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی بغاوت و مَعصِیَت کا اِرتکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے جس کی سزا میں وہ چیزیں اُن پر حرام ہوئیں جیسا کہ آیتفَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمْنَا عَلَیۡہِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَہُمْ (تو یہودیوں کے بڑے ظلم کے سبب ہم نے وہ بعض ستھری چیزیں کہ ان کے لئے حلال تھیں ان پر حرام فرما دیں) میں ارشاد فرمایا گیا۔(1)
نوٹ:اس آیت کی تفسیر سورۂ نسائ، آیت نمبر 160 اور سورۂ انعام، آیت نمبر146میں گزر چکی ہے۔
ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیۡنَ عَمِلُوا السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعْدِ ذٰلِکَ وَ اَصْلَحُوۡۤا ۙ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعْدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۹﴾٪
ترجمۂکنزالایمان:پھر بیشک تمہارا رب ان کے لیے جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر اس کے بعد توبہ کریں اور سنور جائیں بیشک تمہارا رب اس کے بعد ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:پھر بیشک تمہارا رب ان لوگوںکیلئے (غفور رحیم ہے) جو نادانی سے برائی کر بیٹھیں پھر اس کے بعد توبہ کریں اوراپنی اصلاح کرلیں بیشک تمہارا رب اس کے بعد ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔
{ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ:پھر بیشک تمہارا رب۔} اس آیت میںاللّٰہ تعالیٰ نے کافروں کو اسلام میں داخل ہونے اور گناہگاروں کو گناہ چھوڑنے اور ان سے توبہ کرنے کی ترغیب دی ہے اور اس آیت سے مقصود اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت و مغفرت کی وسعت کا بیان ہے، چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ نادانی سے کفر ومعصیت کا اِرتکاب کر بیٹھیں ، پھر ان سے توبہ کر لیں اور آئندہ اپنی توبہ پر قائم رہ کر اپنے اعمال درست کر لیں تو اللّٰہ تعالیٰ ان پر رحم فرماتے ہوئے ان کی توبہ قبول فرما لے گا۔(2)
اِنَّ اِبْرٰہِیۡمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِّلہِ حَنِیۡفًا ؕ وَ لَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿۱۲۰﴾ۙ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۸، ۳/۱۴۹۔
2…صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۹، ۳/۱۰۹۹، خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۹، ۳/۱۴۹، ملتقطاً۔