Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
395 - 601
پر اِفترا فرمایا گیا اور افترا کرنے والوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ بیشک جو اللّٰہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہ ہوں گے۔
اپنی طرف سے کسی چیز کو شرعاً حرام کہنا اللّٰہ تعالیٰ پر اِفترا ہے:
	آج کل بھی جو لوگ اپنی طرف سے حلال چیزوں کو حرام بتادیتے ہیں جیسے میلاد شریف کی شیرینی، فاتحہ، گیارہویں، عرس وغیرہ ایصالِ ثواب کی چیزیں جن کی حرمت شریعت میں وارد نہیں ہوئی انہیں اس آیت کے حکم سے ڈرنا چاہئے کہ ایسی چیزوں کی نسبت یہ کہہ دینا کہ یہ شرعاً حرام ہیں اللّٰہ تعالیٰ پر افترا کرنا ہے۔ 
{مَتَاعٌ قَلِیۡلٌ:تھوڑاسا فائدہ اٹھانا ہے۔} یعنی ان جاہلوں کیلئے تھوڑاسا فائدہ اٹھانا اور دنیا کی چند روزہ آسائش ہے جو باقی رہنے والی نہیں جبکہ ان کے لیے آخرت میں دردناک عذاب ہے۔(1)
وَعَلَی الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیۡکَ مِنۡ قَبْلُ ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰہُمْ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ یَظْلِمُوۡنَ ﴿۱۱۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور خاص یہودیوں پر ہم نے حرام فرمائیں وہ چیزیں جو پہلے تمہیں سنائیں اور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ہم نے صرف یہودیوں پروہ چیزیں حرام کی تھیں جو ہم نے پہلے آپ کے سامنے بیان کی ہیں اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔
{وَعَلَی الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا: اور ہم نے صرف یہودیوں پر۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے صرف یہودیوں پروہ چیزیں حرام کی تھیں جو اللّٰہ تعالیٰ نے پہلے سورۂ انعام میں آیتوَ عَلَی الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیۡ ظُفُرٍ۔۔۔الآیہ۔ (اور ہم نے یہودیوں پر ہر ناخن والا جانور حرام کردیا) میں آپ کے سامنے بیان کی ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو حرام قرار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۷، ۳/۱۴۹۔