شَاکِرًا لِّاَنْعُمِہِ ؕ اِجْتَبٰىہُ وَہَدٰىہُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ ﴿۱۲۱﴾ وَ اٰتَیۡنٰہُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً ؕ وَ اِنَّہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۲۲﴾ؕ
ترجمۂکنزالایمان: بیشک ابراہیم ایک امام تھا اللّٰہ کا فرمانبردار اور سب سے جدا اور مشرک نہ تھا۔ اس کے احسانوں پر شکر کرنے والا اللّٰہ نے اسے چن لیا اور اسے سیدھی راہ دکھائی۔ اور ہم نے اسے دنیا میں بھلائی دی اور بیشک وہ آخرت میں شایان قرب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ابراہیم تمام اچھی خصلتوں کے مالک (یا) ایک پیشوا ، اللّٰہ کے فرمانبردار اور ہر باطل سے جدا تھے اور وہ مشرک نہ تھے۔ اس کے احسانات پر شکر کرنے والے، اللّٰہ نے اسے چن لیا اور اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی۔ اور ہم نے اسے دنیا میں بھلائی دی اور بیشک وہ آخرت میں قرب والے بندوں میں سے ہوگا۔
{اِنَّ اِبْرٰہِیۡمَ:بیشک ابراہیم ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے 9 اَوصافِ حمیدہ بیان فرمائے ہیں۔ (1) حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تمام اچھی خصلتوں اور پسندیدہ اَخلاق کے مالک تھے۔ (2) اللّٰہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے۔ (3) دین ِاسلام پر قائم تھے۔ (4) مشرک نہ تھے۔ کفارِ قریش اپنے آپ کو دینِ ابراہیمی پر خیال کرتے تھے ،اس میں ان کفار کے اس نظریے کا رد ہے ۔ (5) اللّٰہ تعالیٰ کے احسانات پر شکر کرنے والے تھے۔ (6) اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نبوت و خُلَّت کے لئے منتخب فرما لیا تھا۔ (7) انہیں سیدھے راستے یعنی دین ِاسلام کی طرف ہدایت دی تھی۔ (8) دنیا میں بھی انہیں بھلائی دی گئی۔ اس سے مراد رسالت، اَموال، اولاد ،اچھی تعریف اور قبولیتِ عامہ ہے کہ تمام اَدیان والے مسلمان، یہودی ، عیسائی اور عرب کے مشرکین سب اُن کی عظمت بیان کرتے اور اُن سے محبت رکھتے ہیں۔ (9) آخرت میں قرب والے بندوں میں سے ہوں گے۔(1)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۱۲۰-۱۲۲، ص۶۱۳، خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۲۰-۱۲۲، ۳/۱۴۹-۱۵۰، ملتقطاً۔