Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
394 - 601
دین ِاسلام کی خصوصیت:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین ِاسلام انتہائی پاکیزہ دین ہے اور اس دین کو اللّٰہ تعالیٰ نے ہر گندی اور خبیث چیز سے پاک فرمایا ہے اور اس دین میں مسلمانوں کو طہارت و پاکیزگی کی اعلیٰ تعلیمات دی گئی ہیں ۔ حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰیعَنْہُ فرماتے ہیں :بے شک اسلام پاکیزہ دین ہے ، اللّٰہ تعالیٰ نے اسے ہر بری چیز سے پاک فرمایا ہے اور اے انسان! اللّٰہ تعالیٰ نے تیرے لئے اس دین میں وسعت بھی رکھی ہے ( کہ) جب تو اس آیت میں بیان کی گئی چیزوں میں سے کسی چیز کو کھانے پر مجبور ہو جائے( تو اسے ضرورت کے مطابق کھا سکتا ہے)(1)
وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوۡا عَلَی اللہِ الْکَذِبَ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾ؕ مَتَاعٌ قَلِیۡلٌ ۪ وَّلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۱۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللّٰہ پر جھوٹ باندھو بیشک جو اللّٰہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔ تھوڑا برتنا ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہاری زبانیں جھوٹ بولتی ہیں اس لئے نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ تم اللّٰہ پر جھوٹ باندھو ۔ بیشک جو اللّٰہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہ ہوں گے۔تھوڑاسا فائدہ اٹھانا ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
{وَ لَا تَقُوۡلُوۡا:اور نہ کہو۔} زمانۂ جاہلیت کے لوگ اپنی طرف سے بعض چیزوں کو حلال ، بعض چیزوں کو حرام کرلیا کرتے تھے اور اس کی نسبت اللّٰہ تعالیٰ کی طرف کردیا کرتے تھے۔(2) اس آیت میں اس کی ممانعت فرمائی گئی اور اس کو اللّٰہ تعالیٰ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…در منثور، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ۵/۱۷۴۔
2…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۶، ۳/۱۴۸۔