Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
393 - 601
تَعْبُدُوۡنَ ﴿۱۱۴﴾ اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الْمَیۡتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنۡزِیۡرِ وَ مَاۤ اُہِلَّ لِغَیۡرِ اللہِ بِہٖ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیۡرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:تو اللّٰہ کی دی ہوئی روزی حلال پاکیزہ کھاؤ اور اللّٰہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسے پوجتے ہو۔ تم پر تو یہی حرام کیا ہے مُردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت غیر خدا کا نام پکارا گیا پھر جو لاچار ہو نہ خواہش کرتا اور نہ حد سے بڑھتا تو بیشک اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:تو اللّٰہ کا دیا ہوا حلال پاکیزہ رزق کھاؤ اور اللّٰہ کی نعمت کا شکر اداکرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔ تم پر صرف مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت اللّٰہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا سب حرام کردیا ہے پھر جومجبور ہو اس حال میں کہ نہ خواہش سے کھارہاہو اور نہ حد سے بڑھ رہا ہو توبیشک اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے۔
{فَکُلُوۡا:تو کھاؤ!} جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں مسلمانوں سے خطاب ہے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! تم لوٹ، غصب اور خبیث پیشوں سے حاصل کئے ہوئے جوحرام اور خبیث مال کھایا کرتے تھے ان کی بجائے حلال اور پاکیزہ رزق کھاؤ اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی نعمت کا شکر اداکرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔(1)
{اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ:تم پر تو یہی حرام کیا ہے۔}آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے صرف یہ چیزیں حرام کی ہیں جن کا بیان اس آیت میں ہوا نہ کہ بحیرہ سائبہ وغیرہ جانور جنہیں کفار اپنے گمان کے مطابق حرام سمجھتے تھے۔ نیز جو شخص آیت میں مذکور حرام چیزوں میں سے کچھ کھانے پر مجبور ہو جائے تووہ ضرورت کے مطابق ان میں سے کھا سکتا ہے۔(2)
نوٹ:اس آیت کی تفصیلی تفسیر سورۂ بقرہ، آیت نمبر 173، سورۂ مائدہ، آیت نمبر 3 اور سورۂ انعام، آیت نمبر 145 میں گزر چکی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ۳/۱۴۸، مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ص۶۱۲، ملتقطاً۔
2…ابو سعود، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ۳/ ۲۹۹، ملخصاً۔