قید کی مصیبت میں گرفتار کئے جاتے، ہر طرف سے ان کے پاس ان کا رزق کثرت سے آتا تھا تو وہ لوگ نافرمانیاں کرکے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگے اور ا نہوں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تکذیب کی تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے ان کے اعمال کے بدلے میں انہیں بھوک اور خوف کے لباس کا مزہ چکھایا کہ سات برس تک نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعائے ضَرَر کی وجہ سے قحط اور خشک سالی کی مصیبت میں گرفتار رہے یہاں تک کہ مردار کھاتے تھے پھر امن واِ طمینان کی بجائے خوف و ہراس ان پر مُسَلَّط ہوا اور ہر وقت مسلمانوں کے حملے اور لشکر کشی کا اندیشہ رہنے لگا ،یہ ان کے اعمال کا بدلا تھا۔(1)
وَلَقَدْ جَآءَہُمْ رَسُوۡلٌ مِّنْہُمْ فَکَذَّبُوۡہُ فَاَخَذَہُمُ الْعَذَابُ وَہُمْ ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ان کے پاس انہیں میں سے ایک رسول تشریف لایا تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں عذاب نے پکڑا اور وہ بے انصاف تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ان کے پاس انہیں میں سے ایک رسول تشریف لایا تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں عذاب نے پکڑلیا اور وہ زیادتی کرنے والے تھے۔
{وَلَقَدْ جَآءَہُمْ رَسُوۡلٌ مِّنْہُمْ:اور بیشک ان کے پاس انہیں میں سے ایک رسول تشریف لایا۔} یعنی اہلِ مکہ کے پاس انہیں کی جنس سے ایک عظیم رسول یعنی انبیاء کے سردارمحمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لائے ، اہلِ مکہ نے انہیں جھٹلایا تو اللّٰہ تعالیٰ نے اہلِ مکہ کو بھوک اور خوف کے عذاب میں مبتلا کر دیا اور ان کا حال یہ تھا کہ وہ کفر کرنے والے تھے۔(2)
فَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪ وَّ اشْکُرُوۡا نِعْمَتَ اللہِ اِنۡ کُنۡتُمْ اِیَّاہُ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابوسعود، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۳/۲۹۷، خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۳/۱۴۶-۱۴۷، ملتقطاً۔
2…جلالین مع صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۳، ۳/۱۰۹۸۔