وَضَرَبَ اللہُ مَثَلًا قَرْیَۃً کَانَتْ اٰمِنَۃً مُّطْمَئِنَّۃً یَّاۡتِیۡہَا رِزْقُہَا رَغَدًا مِّنۡ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللہِ فَاَذٰقَہَا اللہُ لِبَاسَ الْجُوۡعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا کَانُوۡا یَصْنَعُوۡنَ ﴿۱۱۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اللّٰہ نے کہاوت بیان فرمائی ایک بستی کہ امان و اطمینان سے تھی ہر طرف سے اس کی روزی کثرت سے آتی تو وہ اللّٰہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگی تو اللّٰہ نے اسے یہ سزا چکھائی کہ اسے بھوک اور ڈر کا پہناوا پہنایا بدلہ ان کے کیے کا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللّٰہ نے ایک بستی کی مثال بیان فرمائی جوامن و اطمینان والی تھی ہر طرف سے اس کے پاس اس کا رزق کثرت سے آتاتھا تو وہاں کے رہنے والے اللّٰہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگے تو اللّٰہ نے ان کے اعمال کے بدلے میں انہیں بھوک اور خوف کے لباس کا مزہ چکھایا۔
{وَضَرَبَ اللہُ مَثَلًا قَرْیَۃً:اور اللّٰہ نے ایک بستی کی مثال بیان فرمائی۔}اس آیت میں جس بستی کی مثال بیان فرمائی گئی، ممکن ہے کہ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد مکہ مکرمہ کے علاوہ کوئی اور بستی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے سابقہ امتوں کی کوئی بستی مراد ہو جس کا حال اس آیت میں بیان کیا گیا ہو، اکثر مفسرین کے نزدیک اس بستی سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ یہ کلام ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ مقاتل اور بعض مفسرین کے قول کے مطابق یہ آیت مدنی ہے اور یہی صحیح ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے اس بستی کی 6 صفات بیان فرمائی ہیں اور یہ تمام صفات اہلِ مکہ میں موجود تھیں تو اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی مثال اہلِ مدینہ کے سامنے بیان فرمائی تاکہ وہ انہیں ڈرائے کہ اگر انہوں نے مکہ والوں جیسے کام کئے تو جو بھوک اور خوف اُنہیں پہنچا وہ اِنہیں بھی پہنچ سکتا ہے۔(1) اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک بستی جیسے کہ مکہ کے رہنے والے جوامن و اطمینان سے تھے، ان پر لٹیرے اور ڈاکو چڑھائی کرتے نہ وہ قتل اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۱۲، ۳/۱۴۷۔