Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
381 - 601
نوٹ:یاد رہے کہ تَعَوُّذْ کے مسائل سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں گزر چکے ہیں۔
{اِنَّہٗ لَیۡسَ لَہٗ سُلْطٰنٌ:بیشک اسے کوئی قابو نہیں۔} یعنی شیطان کو ان لوگوں پر تَسَلُّط حاصل نہیں جو ایمان لائے اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں لہٰذا اللّٰہ تعالیٰ پر توکل کرنے والے مومن شیطانی وسوسے قبول نہیں کرتے یعنی اگرچہ شیطان کوشش بھی کرے تو اسے کامیابی نہیں ملتی ۔
{اِنَّمَا سُلْطٰنُہٗ:اس کا قابو تو انہیں پر ہے۔} یعنی شیطان کو ان لوگوں پر تسلط حاصل ہے جو اسے اپنا دوست بناتے ہیں اور اس کے وسوسوں کی پیروی کرتے ہیں اور وہ شیطان کے وسوسوں کی وجہ سے مختلف چیزوں کو اللّٰہ تعالیٰ کا شریک بنا لیتے ہیں۔(1)اس سے معلوم ہوا کہ شیطان کوئی زور زبردستی نہیں کرتا بلکہ جو خود ہی اس کی طرف مائل ہوتا ہے اور اسے دوست بناتا ہے وہی اس کا اثر قبول کرتا ہے۔ 
وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ ۙ وَّ اللہُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُفْتَرٍ ؕ بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْلَمُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾
ترجمۂکنزالایمان:اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدلیں اور اللّٰہ خوب جانتا ہے جو اتارتا ہے کافر کہیں تم تو دل سے بنا لاتے ہو بلکہ ان میں اکثر کو علم نہیں۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیں اور اللّٰہ خوب جانتا ہے جو وہ اتارتا ہے تو کافر کہتے ہیں: تم خود گھڑ لیتے ہو بلکہ ان میں اکثر جانتے نہیں۔
{وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ:اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیں۔}شانِ نزول: مشرکینِ مکہ اپنی جہالت کی وجہ سے آیتیں منسوخ ہونے پر اعتراض کرتے تھے اور اس کی حکمتوں سے ناواقف ہونے کے باعث اس چیز کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد (مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) ایک روز ایک حکم دیتے ہیں اور دوسرے روز
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ص۶۰۸، ملخصاً۔