Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
382 - 601
 دوسرا حکم دیدیتے ہیں ۔ وہ اپنے دل سے باتیں بناتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور اپنی حکمت سے ایک حکم کو منسوخ کرکے دوسرا حکم دیتے ہیں تو اس میں (کوئی نہ کوئی) حکمت ہوتی ہے اور اللّٰہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو وہ اتارتا ہے کہ اس میں کیا حکمت اور اس کے بندوں کے لئے اس میں کیا مصلحت ہے لیکن کافر نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہتے ہیں: تم خود گھڑ لیتے ہو حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ کافروںکی اکثریت جاہل ہے اور وہ نَسخ اور تبدیلی کی حکمت و فوائد سے خبردار نہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ قرآنِ کریم کی طرف اِفتراء کی نسبت ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ جس کلام کی مثل بنانا انسان کی طاقت سے باہر ہے تو وہ کسی انسان کا بنایا ہوا کیسے ہوسکتا ہے۔(1)
قُلْ نَزَّلَہٗ رُوۡحُ الْقُدُسِ مِنۡ رَّبِّکَ بِالْحَقِّ لِیُـثَبِّتَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَہُدًی وَّ بُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ اسے پاکیزگی کی روح نے اتارا تمہارے رب کی طرف سے ٹھیک ٹھیک کہ اس سے ایمان والوں کو ثابت قدم کرے اور ہدایت اور بشارت مسلمانوں کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اسے مقدس روح نے آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کیا ہے تاکہ وہ ایمان والوں کو ثابت قدم کردے اور (یہ)مسلمانوں کیلئے ہدایت اور خوشخبری ہے۔ 
{قُلْ:تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جو لوگ قرآن کے بارے میں آپ پر بہتان لگا رہے ہیں آپ ان سے فرما دیں کہ اسے میرے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس سے حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَام حق کے ساتھ لے کر آئے ہیں اور اس قرآن کے ناسِخ و مَنسوخ کو میرے ربعَزَّوَجَلَّ نے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامکے ذریعے مجھ پر نازل فرمایا ہے تاکہ وہ ایمان والوں کو ثابت قدم کردے اور ناسخ و منسوح کی تصدیق کی وجہ سے ان کے ایمانوں کو اور مضبوط کر دے اور یہ قرآن مسلمانوں کیلئے ہدایت اور خوشخبری ہے۔(2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۳/۱۴۳، روح البیان، النحل، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۵/۸۱، خزائن العرفان، النحل، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ص۵۱۸-۵۱۹، ملتقطاً۔
2…تفسیر طبری، النحل، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۱۴/۶۴۷، ملخصاً۔