آخرت میں جنت کی نعمتیں دے کرپاکیزہ زندگی دیں گے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ اچھی زندگی سے عبادت کی لذت مراد ہے ۔ حکمت :مومن اگرچہ فقیر بھی ہو اُس کی زندگانی دولت مند کافر کے عیش سے بہتر اور پاکیزہ ہے کیونکہ مومن جانتا ہے کہ اس کی روزی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے جو اُس نے مقدر کیا اس پر راضی ہوتا ہے اور مومن کا دل حرص کی پریشانیوں سے محفوظ اور آرام میں رہتا ہے اور کافر جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر نظرنہیں رکھتا وہ حریص رہتا ہے اور ہمیشہ رنج ، مشقت اور تحصیلِ مال کی فکر میں پریشان رہتا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نیک اعمال پر ثواب ملنے کے لئے مسلمان ہونا شرط ہے ، کافر کے تمام نیک اعمال بیکار ہیں۔(1)
فَاِذَا قَرَاۡتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ ﴿۹۸﴾ اِنَّہٗ لَیۡسَ لَہٗ سُلْطٰنٌ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿۹۹﴾ اِنَّمَا سُلْطٰنُہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ یَتَوَلَّوْنَہٗ وَ الَّذِیۡنَ ہُم بِہٖ مُشْرِکُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: تو جب تم قرآن پڑھو تو اللّٰہ کی پناہ مانگو شیطان مردود سے۔ بیشک اس کا کوئی قابو ان پر نہیں جو ایمان لائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اس کا قابو تو انہیں پر ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں اور اسے شریک ٹھہراتے ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللّٰہ کی پناہ مانگو ۔ بیشک اسے ان لوگوں پر کوئی قابو نہیں جو ایمان لائے اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس کا قابو تو انہیں پر ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں اور وہ جواس کو شریک ٹھہراتے ہیں۔
{فَاِذَا قَرَاۡتَ الْقُرْاٰنَ:تو جب تم قرآن پڑھنے لگو۔} یعنی قرآنِ کریم کی تلاوت شروع کرتے وقت اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمْپڑھو۔ یہ مستحب ہے۔(2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۹۷، ۳/۱۴۱-۱۴۲، ملخصاً۔
2…جلالین مع صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۹۷، ۳/۱۰۹۰۔