ارشاد فرماتا ہے
’’اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمْ وَ اَمْوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللّٰہ نے مسلمانوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بدلے میں خرید لئے کہ ان کے لیے جنت ہے۔
پھر بتایا کہ انہیں اس سودے میں نفع ہوا،چنانچہ ارشاد فرمایا
’’فَاسْتَبْشِرُوۡا بِبَیۡعِکُمُ الَّذِیۡ بَایَعْتُمۡ بِہٖ‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:تو اپنے اس سودے پر خوشیاں مناؤ جو سودا تم نے کیا ہے۔(3)
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ دنیا کے فنا اور زائل ہو جانے اور آخرت کے ہمیشہ باقی رہنے میں خوب غورو فکر کرے اور آخرت کو دنیا پر ترجیح دے اور دنیا کی فانی نعمتوں اور لذتوں سے بے رغبتی اختیار کرے۔
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوْ اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّہُمْ اَجْرَہُمۡ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ ﴿۹۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے اور ضرور انہیں ان کا نیگ دیں گے جو ان کے سب سے بہتر کام کے لائق ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو مرد یا عورت نیک عمل کرے اور وہ مسلمان ہو تو ہم ضرور اسے پاکیزہ زندگی دیں گے اور ہم ضرور انہیں ان کے بہترین کاموں کے بدلے میں ان کا اجر دیں گے۔
{مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوْ اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ:جو مرد یا عورت نیک عمل کرے اور وہ مسلمان ہو۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو مرد یا عورت نیک عمل کرے اور وہ مسلمان ہو تو ہم ضرور اسے دنیا میں حلال رزق اور قناعت عطا فرما کر اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…توبہ:۱۱۱۔
2…توبہ:۱۱۱
3…احیاء العلوم، کتاب الفقر والزہد، الشطر الثانی من الکتاب فی الزہد، بیان حقیقۃ الزہد، ۴/۲۶۸۔