وضاحت فرمائی گئی ہے۔
مَا عِنۡدَکُمْ یَنۡفَدُ وَمَا عِنۡدَ اللہِ بَاقٍ ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡۤا اَجْرَہُمۡ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ ﴿۹۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: جو تمہارے پاس ہے ہوچکے گا اور جو اللّٰہ کے پاس ہے ہمیشہ رہنے والا ہے اور ضرور ہم صبر کرنے والوں کو ان کا وہ صلہ دیں گے جو ان کے سب سے اچھے کام کے قابل ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو اللّٰہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور ہم صبر کرنے والوں کو ان کے بہترین کاموں کے بدلے میں ان کا اجر ضرور دیں گے۔
{مَا عِنۡدَکُمْ:جو تمہارے پاس ہے۔} یعنی تمہارے پاس جو دنیا کا سامان ہے یہ سب فنا اور ختم ہو جائے گا اور اللّٰہ تعالیٰ کے پاس جو خزانۂ رحمت اور آخرت کا ثواب ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کو پچھلی آیت میں بیان فرمایا کہ جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہے وہ تمہاری دنیوی کمائی سے بہتر ہے لہٰذا اپنے عہد کو تھوڑی سی قیمت کے بدلے نہ توڑو۔
دنیا و آخرت کا مُوازنہ:
امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : جس شخص کو اس بات کی معرفت حاصل ہوجائے کہ جو کچھ اللّٰہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ باقی ہے اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے(تو اس کے لئے باقی اور بہتر کے بدلے فانی اور ناقص کو بیچ دینا مشکل نہیں ہوتا )جس طرح برف کے مقابلے میں جواہر بہتر اور باقی رہنے والے ہیں اور برف کے مالک پر برف کو جواہر اور موتیوں کے بدلے میں بیچنا مشکل نہیں ہوتا، اسی طرح دنیا اور آخرت کا معاملہ ہے، دنیا اس برف کی طرح ہے جو دھوپ میں رکھی ہوئی ہو، وہ ختم ہونے تک پگھلتی رہتی ہے اور آخرت اس جوہر کی طرح ہے جو فنا نہیں ہوتا، لہٰذا دنیا اور آخرت کے درمیان تَفاوُت کے بارے میں جس قدر یقین اور معرفت مضبوط ہوگی اسی قدراس کا سودا کرنے اور معاملہ کرنے میں رغبت مضبوط ہوگی حتّٰی کہ جس شخص کا یقین مضبوط ہوتا ہے وہ اپنے نفس اور مال دونو ںکو بیچ دیتا ہے جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ