(3)… حضرت سلیم بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں، حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور رومیوں کے درمیان ایک معاہدہ تھا، حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ان کے شہروں کی طرف تشریف لے گئے تاکہ جب معاہدہ ختم ہو تو ان پر حملہ کر دیں لیکن اچانک ایک آدمی کو چارپائے یا گھوڑے پر دیکھا وہ کہہ رہا تھا: اللّٰہ اکبر! عہد پورا کرو، عہد شکنی نہ کرو۔ کیا دیکھتے ہیں کہ یہ شخص حضرت عمرو بن عَبْسَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں۔ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ’’جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو وہ ا س معاہدے کو نہ توڑے اور نہ باندھے جب تک کہ اس کی مدت ختم نہ ہو جائے یا وہ برابری کی بنیاد پر اس کی طرف پھینک نہ دے۔ راوی فرماتے ہیں’’یہ سن کر حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ لوگوں کو لے کر واپس لوٹ گئے۔(1)
وَلَا تَشْتَرُوۡا بِعَہۡدِ اللہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ اِنَّمَا عِنۡدَ اللہِ ہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْ اِنۡ کُنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ ﴿۹۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اللّٰہ کے عہد پر تھوڑے دام مول نہ لو بیشک وہ جو اللّٰہ کے پاس ہے تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللّٰہ کے عہد کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لو ۔ بیشک جو اللّٰہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
{وَلَا تَشْتَرُوۡا بِعَہۡدِ اللہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا:اور اللّٰہ کے عہد کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لو ۔} یعنی اسلا م کا عہد توڑنے کی صورت میں اگر تمہیں دنیا کی کوئی بھلائی ملے تو اس کی طرف توجہ مت دو کیونکہ اسلام پر قائم رہنے کی صورت میں اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جو بھلائی تیار کی ہے وہ اس سے بہت بہتر ہے جو تم اسلام کا عہد توڑ کر دنیا میں پاؤ گے۔ اگر تم دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کے مابین فرق جانتے تو یہ بات سمجھ جاتے۔(2)اگلی آیت میں اِسی بات کی مزید
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ترمذی، کتاب السیر، باب ما جاء فی الغدر، ۳/۲۱۲، الحدیث:۱۵۸۶۔
2…تفسیر کبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۹۵، ۷/۲۶۶۔