مفسرین کے نزدیک ا س آیت میں بیعتِ اسلام کو توڑنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ ثابت قدمی کے بعد قدموں کے پھسل جانے کی وعید اسی کے مناسب ہے۔(1)
عہد کی پاسداری کے3 واقعات:
اس آیت سے معلوم ہو اکہ اسلام میں عہد کی پاسداری کی بہت اہمیت ہے، اسی مناسبت سے یہاںعہد کی پاسداری سے متعلق 3 واقعات ملاحظہ ہوں
(1)…صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت ابو جندل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیڑیوں میں بندھے ہوئے کسی طرح حدیبیہ کے مقام پر پہنچ گئے توان کے باپ سہیل بن عمرو نے ان کی واپسی کا مطالبہ کر دیا اور اس کے بغیر معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ جب حضرت ابو جندل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو معلوم ہوگیا کہ اب وہ کفار کی طرف دوبارہ لوٹا دیئے جائیں گے تو گڑگڑا کر مسلمانوں سے فریاد کرنے لگے ۔ چونکہ کفار سے معاہدہ ہو چکا تھا اس لئے حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے موقع کی نزاکت کا خیال فرماتے ہوئے حضرت ابوجندل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا کہ تم صبر کرو۔ عنقریب اللّٰہ تعالیٰ تمہارے لئے اور دوسرے مظلوموں کے لئے ضرور ہی کوئی راستہ نکالے گا۔ ہم صلح کا معاہدہ کرچکے اب ہم ان لوگوں سے بدعہدی نہیں کرسکتے۔ غرض حضرت ابوجندل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اسی طرح پھر مکہ واپس جانا پڑا۔(2)
(2)… حضرت حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’میں اور حضرت حُسَیلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہیں سے آرہے تھے کہ راستے میں کفار نے ہم دونوں کو روک کر کہا ’’ تم دونوں بدر کے میدان میں حضرت محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کی مدد کرنے کے لئے جا رہے ہو۔ ہم نے جواب دیا: ہمارا بدر جانے کا ارادہ نہیں ہم تو مدینے جا رہے ہیں۔ کفار نے ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم صرف مدینے جائیں گے اور جنگ میں رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ شریک نہ ہوں گے ۔ اس کے بعد جب ہم دونوں (بدر کے میدان میں) بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضر ہوئے اور اپنا واقعہ بیان کیا تو حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’تم دونوں واپس چلے جاؤ، ہم ہر حال میں کفار سے کئے ہوئے عہد کی پابندی کریں گے اور ہمیں کفار کے مقابلے میں صرف اللّٰہ تعالیٰ کی مدد درکار ہے۔(3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۹۴، ۳/۱۴۱۔
2…سیرت ابن ہشام، امر الحدیبیۃ فی آخر سنۃ ست وذکر بیعۃ الرضوان۔۔۔الخ، علیّ یکتب شروط الصلح،ص۴۳۲، ملخصاً۔
3…مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب الوفاء بالعہد، ص۹۸۸، الحدیث: ۹۸(۱۷۸۷)۔