{وَلَوْ شَآءَ اللہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً:اور اگر اللّٰہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت بنادیتا ۔} فرمایا گیا کہ اگر اللّٰہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب ایک ہی دین پر ہوتے لیکن اللّٰہ تعالیٰ کی اپنی مَشِیَّت اور حکمت ہے جس کے مطابق وہ فیصلے فرماتا ہے تو وہ اپنے عدل سے جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور اپنے فضل سے جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اس میں کسی دوسرے کو دخل کی ہمت ہے نہ اجازت، البتہ یہ یاد رہے کہ لوگ اس مشیت کو سامنے رکھ کر گناہوں پر جَری نہ ہوجائیں کیونکہ قیامت کے دن لوگوں سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا لہٰذا مشیت کا معاملہ جدا ہے اور حکمِ الٰہی کا جدا۔
وَلَا تَتَّخِذُوۡۤا اَیۡمَانَکُمْ دَخَلًۢا بَیۡنَکُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوۡتِہَا وَتَذُوۡقُوا السُّوۡٓءَ بِمَا صَدَدۡتُّمْ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ ۚ وَلَکُمْ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۹۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اپنی قسمیں آپس میں بے اصل بہانہ نہ بنالو کہ کہیں کوئی پاؤں جمنے کے بعد لغزش نہ کرے اور تمہیں برائی چکھنی ہو بدلہ اس کا کہ اللّٰہ کی راہ سے روکتے تھے اور تمہیں بڑا عذاب ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم اپنی قسموں کو اپنے درمیان دھوکے اور فساد کا ذریعہ نہ بناؤ ورنہ قدم ثابت قدمی کے بعد پھسل جائیں گے اور تم اللّٰہ کے راستے سے روکنے کی وجہ سے سزا کا مزہ چکھو گے اور تمہارے لئے بہت بڑا عذاب ہوگا۔
{وَلَا تَتَّخِذُوۡۤا اَیۡمَانَکُمْ دَخَلًۢا بَیۡنَکُمْ:اورتم اپنی قسموں کو اپنے درمیان دھوکے اور فساد کا ذریعہ نہ بناؤ۔} اس سے پہلی آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے عہد اور قسمیں توڑنے سے منع فرمایا تھا ،اب یہاں دوبارہ ا س کام سے تاکیداً منع فرمانے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ معاہدہ اور قسمیں پورا کرنے کا معاملہ انتہائی اہم ہے کیونکہ عہد کی خلاف ورزی میں دین و دنیا کا نقصان ہے اور عہد پورا کرنے میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔ آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ تم اپنی قسموں کو اپنے درمیان دھوکے اور فساد کا ذریعہ نہ بناؤورنہ تمہارے قدم اسلام کے صحیح راستے پرثابت قدمی کے بعد پھسل جائیں گے اور تم خود عہد کی خلاف ورزی کرنے یا دوسروں کو عہد پورا کرنے سے روکنے کی وجہ سے دنیا میں عذاب کا مزہ چکھو گے کیونکہ تم عہد توڑ کر گناہ کا ایک طریقہ رائج کرنے کا ذریعہ بنے ہوگے اور تمہارے لئے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہوگا۔(1) بعض
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…جلالین مع صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۹۴، ۴/۱۰۹۰۔