دَخَلًۢا بَیۡنَکُمْ اَنۡ تَکُوۡنَ اُمَّۃٌ ہِیَ اَرْبٰی مِنْ اُمَّۃٍ ؕ اِنَّمَا یَبْلُوۡکُمُ اللہُ بِہٖ ؕ وَلَیُبَیِّنَنَّ لَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مَا کُنۡتُمْ فِیۡہِ تَخْتَلِفُوۡنَ ﴿۹۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا سُوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا اپنی قسمیں آپس میں ایک بے اصل بہانہ بناتے ہو کہ کہیں ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ نہ ہو اللّٰہ تو اس سے تمہیں آزماتا ہے اور ضرور تم پر صاف ظاہر کردے گا قیامت کے دن جس بات میں جھگڑتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور تم اس عورت کی طرح نہ ہوناجس نے اپنا سوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا، (ایسا نہ ہوکہ) تم اپنی قسموں کو اپنے درمیان دھوکے اور فساد کا ذریعہ بنالو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ (طاقت و مال والا) ہے۔ اللّٰہ تو اس کے ذریعے تمہیں صرف آزماتا ہے اور وہ ضرور قیامت کے دن تمہارے لئے صاف ظاہر کردے گا جس بات میں تم جھگڑتے تھے۔
{وَلَا تَکُوۡنُوۡا:اور تم نہ ہونا۔} یعنی تم اپنے معاہدے اور قسمیں توڑ کراس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے اپنا سوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا۔ مکہ مکرمہ میں ربطہ بنت عمرو نامی ایک عورت تھی جس کی طبیعت میں بہت وہم تھا اور عقل میں فتور، وہ دوپہر تک محنت کرکے سوت کاتا کرتی اور اپنی باندیوں سے بھی کتواتی اور دوپہر کے وقت اس کاتے ہوئے کو توڑ کر ریزہ ریزہ کرڈالتی اور باندیوں سے بھی تڑوا دیتی ،یہی اس کا معمول تھا ۔(1) آیت کا معنی یہ ہے کہ اپنے عہد کو توڑ کر اس عورت کی طرح بے وقوف نہ بنو۔
{تَتَّخِذُوۡنَ اَیۡمَانَکُمْ دَخَلًۢا بَیۡنَکُمْ:( ایسا نہ ہوکہ) تم اپنی قسموں کو اپنے درمیان دھوکے اور فساد کا ذریعہ بنالو۔} امام مجاہد رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ایک قوم سے معاہدہ کرتے اور جب دوسری قوم اُس سے زیادہ تعداد ،مال یا قوت میں پاتے تو پہلوں سے جو معاہدے کئے تھے وہ توڑ دیتے اور اب دوسرے سے معاہدہ کرتے، اللّٰہ تعالیٰ نے اس طرح کرنے سے منع فرمایا اور عہد پورا کرنے کا حکم دیا۔(2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۹۲، ۳/۱۴۰۔
2…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۹۲، ۳/۱۴۰-۱۴۱ملخصاً۔