Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
372 - 601
قسم سے متعلق چند مسائل:
	 یہاں قسم سے متعلق چند اہم مسائل یاد رکھیں:
(1)…قسم کھانا جائز ہے مگر جہاں تک ہو سکے کم قسم کھانا بہتر ہے اور بات بات پر قسم نہیں کھانی چاہیے ، بعض لوگوں نے قسم کو تکیہ کلام بنا رکھا ہے کہ قصداً اور بلا قصد زبان پر جاری ہوجاتی ہے اور اس کابھی خیال نہیں رکھتے کہ بات سچی ہے یا جھوٹی، یہ سخت معیوب ہے ۔ غیرِ خدا کی قسم مکروہ ہے اور یہ شرعاً قسم بھی نہیں یعنی اس کے توڑنے سے کفارہ لازم نہیں۔(1)
(2)…بعض قسمیں ایسی ہیں کہ اُنہیں پورا کرنا ضروری ہے مثلاً کوئی ایسا کام کرنے کی قسم کھائی جو بغیر قسم کرنا ضروری تھا یا گناہ سے بچنے کی قسم کھائی تو اس صورت میں قسم سچی کرنا ضروری ہے۔ مثلاً یوں کہا کہ خدا کی قسم ظہر پڑھوں گا یا چوری یا زنا نہ کروں گا۔ دوسری وہ کہ اُس کا توڑنا ضروری ہے مثلاً گناہ کرنے یا فرائض و واجبات ادانہ کرنے کی قسم کھائی، جیسے قسم کھائی کہ نماز نہ پڑھوں گا یا چوری کروں گا یا ماں باپ سے کلام نہ کروں گا تو ایسی قسم توڑ دے۔ تیسری وہ کہ اُس کا توڑنا مستحب ہے مثلاً ایسے کام کی قسم کھائی کہ اُس کے غیر میں بہتری ہے تو ایسی قسم کو توڑ کروہ کرے جو بہتر ہے۔ چوتھی وہ کہ مباح کی قسم کھائی یعنی کرنا اور نہ کرنا دونوں یکساں ہیں اس میں قسم کو باقی رکھنا افضل ہے۔(2)
(3)…قسم کا کفارہ غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا اُن کو کپڑے پہنانا ہے یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔(3)
   نوٹ:قسم سے متعلق مسائل کی تفصیلی معلومات کے لئے بہار شریعت حصہ 9سے ’’قسم کا بیان ‘‘ مطالعہ فرمائیں۔(4)
وَلَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّتِیۡ نَقَضَتْ غَزْلَہَا مِنۡۢ بَعْدِ قُوَّۃٍ اَنۡکَاثًا ؕ تَتَّخِذُوۡنَ اَیۡمَانَکُمْ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بہار شریعت، حصہ نہم، قسم کا بیان، ۲/۲۹۸،ملخصاً۔
2…بہار شریعت، حصہ نہم، قسم کا بیان، ۲/۲۹۹، ملخصاً۔
3…تبیین الحقائق، کتاب الایمان، ۳/۴۳۰۔
4…نیز اس کے ساتھ ساتھ امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ’’قسم کے بارے میں مدنی پھول‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ بھی بہت مفید ہے۔