کی مخالفت نہ کرنے کو اپنے اوپر لازم کر لیتے ہیں لہٰذا مریدین پر اسے پورا کرنا لازم ہے۔(1)
وعدہ پورا کرنے کی فضیلت اور عہد شکنی کی مذمت:
اس آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیااس مناسبت سے ہم یہاں وعدہ پورا کرنے کی فضیلت اور عہد شکنی کی مذمت پر مشتمل3اَحادیث ذکرکرتے ہیں۔
(1)…حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن ہوجاؤ میں تمہارے لیے جنت کا ذمہ دار ہوتا ہوں۔ (۱)جب بات کرو سچ بولو۔ (۲) جب وعدہ کرو اسے پورا کرو۔ (۳) جب تمھارے پاس امانت رکھی جائے اسے ادا کرو ۔ (۴)اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔ (۵) اپنی نگاہیں نیچی رکھو ۔ (۶) اپنے ہاتھوں کو روکو۔‘‘(2) یعنی ہاتھ سے کسی کو ایذا نہ پہنچاؤ ۔
(2)…حضرت عبداللّٰہ بن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’قیامت کے دن عہد شکنی کرنے والے کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔‘‘(3)
(3)…حضرت عبداللّٰہ بن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا ہو گا جس کے ذریعے وہ پہچانا جائے گا۔(4)
{وَلَا تَنۡقُضُوا الۡاَیۡمَانَ بَعْدَ تَوْکِیۡدِہَا:اور قسموں کو مضبوط کرنے کے بعد نہ توڑو۔} قسموں کو مضبوط کرنے سے مراد یہ ہے کہ قسم کھاتے وقت اللّٰہ تعالیٰ کے اَسماء اور صفات زیادہ ذکر کئے جائیں اور قسم توڑنے کی ممانعت مضبوط کرنے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ مُطْلَقاً قسم توڑنا منع ہے۔ یا قسم مضبوط کرنے سے مراد یہ ہے کہ قصداً قسم کھائی جائے، اس صورت میں لَغْو قسم اس حکم سے خارج ہو جائے گی۔(5)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۹۱، ۳/۱۰۸۸-۱۰۸۹۔
2…مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث عبادۃ بن الصامت رضی اللّٰہ عنہ، ۸/۴۱۲، الحدیث: ۲۲۸۲۱۔
3…بخاری، کتاب الادب، باب ما یدعی الناس بآبائہم، ۴/۱۴۹، الحدیث: ۶۱۷۷۔
4…بخاری، کتاب الحیل، باب اذا غصب جاریۃ فزعم انّہا ماتت۔۔۔ الخ، ۴/۳۹۴، الحدیث: ۶۹۶۶۔
5…تفسیر جمل، النحل، تحت الآیۃ: ۹۱، ۴/۲۶۲، ملخصاً۔