Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
370 - 601
وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللہَ عَلَیۡکُمْ کَفِیۡلًا ؕ اِنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوۡنَ ﴿۹۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اللّٰہ کا عہد پورا کرو جب قول باندھو اور قسمیں مضبوط کرکے نہ توڑو اور تم اللّٰہ کو اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو بیشک اللّٰہ تمہارے کام جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللّٰہ کا عہد پورا کرو جب تم کوئی عہد کرو اور قسموں کو مضبوط کرنے کے بعد نہ توڑو حالانکہ تم اللّٰہ کواپنے اوپر ضامن بناچکے ہو۔ بیشک اللّٰہ تمہارے کام جانتا ہے۔
{وَ اَوْفُوۡا بِعَہۡدِ اللہِ:اور اللّٰہ کا عہد پورا کرو۔} اس سے پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے کرنے والے کاموں اور نہ کرنے والے کاموں کا اِجمالی طور پر ذکر فرمایا اور ا س آیت سے بعض اِجمالی اَحکام کو تفصیل سے بیان فرما رہا ہے اور ان میں سب سے پہلے عہد پورا کرنے کا ذکر کیا کیونکہ اس حق کو ادا کرنے کی تاکید بہت زیادہ ہے۔ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے(بیعتِ رضوان کے موقع پر) رسول کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اسلام پر بیعت کی تھی، انہیں اپنے عہد پورے کرنے کا حکم دیا گیا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے وہ عہد ہے جسے انسان اپنے اختیار سے اپنے اوپر لازم کر لے اور اس میں وعدہ بھی داخل ہے کیونکہ وعدہ عہد کی قسم ہے۔(1)حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’وعدہ عہد ہی کی ایک قسم ہے۔ حضرت میمون بن مہران رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’تم جس شخص سے بھی عہد کرو تواسے پورا کرو ، خواہ وہ شخص مسلمان ہو یا کافر ، کیونکہ تم نے اس عہد پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا نام لیا(اور اسے ضامن بنایا)ہے۔(2)
	حضرت علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’عہد سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے پورا کرنا انسان پر لازم ہے خواہ اسے پورا کرنا اللّٰہ تعالیٰ نے بندے پر لازم کیا ہو یا بندے نے خود اسے پورا کرنا اپنے اوپر لازم کر لیا ہو جیسے پیرانِ عظام کے اپنے مریدین سے لئے ہوئے عہد کیونکہ ان میں مریدین اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور کسی کام میں اللّٰہ تعالیٰ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۹۱، ۳/۱۴۰۔
2…تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۹۱، ۷/۲۶۳۔