سورۂ نحل کی آیت نمبر 90سے متعلق بزرگانِ دین کے اَقوال:
سورۂ نحل کی اس آیتِ مبارکہ سے متعلق حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیںکہ یہ آیت تمام خیر و شر کے بیان کو جامع ہے۔(1)
امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’طاعات فرض بھی ہیں اور نوافل بھی ، اور آدمی ان سب میں صبر کا محتاج ہے اور اللّٰہ تعالیٰ نے ان سب کو ا س میں جمع فرما دیا
’’اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُ بِالْعَدْلِ وَالۡاِحْسَانِ وَ اِیۡتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان:بیشک اللّٰہ عدل اور احسان اور رشتے داروں کو دینے کا حکم فرماتا ہے۔‘‘
عدل فرض، احسان نفل اور قرابت داروں کو دینا مُرَوَّت اور صلہ رحمی ہے اور یہ تمام اُمور صبر کے محتاج ہیں ۔ دوسری قسم گناہوں پر مشتمل ہے اور ان پر صبر کرنے کی بھی بہت زیادہ حاجت ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے مختلف قسم کے گناہوں کو اپنے اس ارشادِ گرامی میں جمع فرما دیا
’’وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ وَ الْبَغْیِ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور بے حیائی اور ہر بری بات اور ظلم سے منع فرماتا ہے۔(2)
تفسیر مدارک میں ہے کہ یہی آیت حضرت عثمان بن مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اسلام کا سبب ہوئی ،وہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول سے ایمان میرے دل میںجگہ پکڑ گیا ۔ اس آیت کا اثر اتنا زبردست ہوا کہ ولید بن مغیرہ اور ابوجہل جیسے سخت دل کفار کی زبانوں پر بھی اس کی تعریف آ ہی گئی۔ یہ آیت اپنے حسنِ بیان اور جامعیت کی وجہ سے ہر خطبہ کے آخر میں پڑھی جاتی ہے۔(3)
وَ اَوْفُوۡا بِعَہۡدِ اللہِ اِذَا عٰہَدۡتُّمْ وَلَا تَنۡقُضُوا الۡاَیۡمَانَ بَعْدَ تَوْکِیۡدِہَا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔الخ، فصل فی فضائل السور والآیات، ذکر الآیۃ الجامعۃ للخیر والشرّ فی سورۃ النحل، ۲/۴۷۳، الحدیث: ۲۴۴۰۔
2…احیاء العلوم، کتاب الصبر والشکر، بیان مظان الحاجۃ الی الصبر وانّ العبد لا یستغنی عنہ۔۔۔ الخ ۴/۸۷۔
3…مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۹۰، ص۶۰۶، ملخصاً۔