Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
368 - 601
(2)…حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’میں اللّٰہ ہوں اور میں رحمن ہوں، رحم (یعنی رشتے داری) کو میں نے پیدا کیا اور اس کا نام میں نے اپنے نام سے مُشْتَق کیا، لہٰذا جو اسے ملائے گا، میں اسے ملاؤں گا اور جو اسے کاٹے گا، میں اسے کاٹوں گا۔(1)
(3)…حضرت عاصم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس کو یہ پسند ہو کہ عمر میں درازی ہو اور رزق میں وسعت ہو اور بری موت دفع ہو وہ اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور رشتہ والوں سے سلوک کرے۔(2)
{وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ وَ الْبَغْیِ:اور بے حیائی اور ہر بری بات اور ظلم سے منع فرماتا ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ہر شرمناک اورمذموم قول و فعل سے نیز شرک ، کفر ،گناہ اور تمام ممنوعاتِ شرعیہ سے منع فرمایا ہے۔
	 حضرت سفیان بن عُیَیْنَہ فرماتے ہیں ’’ فَحْشَاء ، مُنْکَرْ اور بَغْی یہ ہے کہ ظاہر اچھا ہو اور باطن ایسا نہ ہو ۔ بعض مفسرین نے فرمایا ’’ اس پوری آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے تین چیزوں کا حکم دیا اور تین سے منع فرمایا ہے ۔
 (1)…عدل کا حکم دیا ۔عدل ،اَقوال اور اَفعال میں انصاف و مُساوات کا نام ہے اس کے مقابل فَحْشَاء یعنی بے حیائی ہے۔ اس سے مراد قبیح اقوال اور افعال ہیں۔
 (2)… احسان کا حکم فرمایا ۔ احسان یہ ہے کہ جس نے ظلم کیا اس کو معاف کرو اور جس نے برائی کی اس کے ساتھ بھلائی کرو ۔ اس کے مقابل مُنْکَرْ ہے یعنی محسن کے احسان کا انکار کرنا ۔
(3)… رشتہ داروں کو دینے ، اُن کے ساتھ صلہ رحمی کرنے اور شفقت و محبت سے پیش آنے کا حکم فرمایا۔ اس کے مقابل بَغْیہے ۔ اس کا مطلب اپنے آپ کو اونچا قرار دینااور اپنے تعلق داروں کے حقوق تَلف کرنا ہے۔(3)
{یَعِظُکُمْ:وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے۔} یعنی اس آیت میں جس چیز کا حکم دیا گیا اور جس سے منع کیا گیا ا س میں حکمت یہ ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو اور وہ کام کرو جس میں اللّٰہ تعالیٰ کی رضا ہے۔(4)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ترمذی، کتاب البرّ والصلۃ، باب ما جاء فی قطیعۃ الرحم، ۳/۳۶۳، الحدیث: ۱۹۱۴۔
2…مستدرک، کتاب البرّ والصلۃ، من سرّہ ان یدفع عنہ میتۃ السوء فلیصل رحمہ، ۵/۲۲۲، الحدیث: ۷۲۶۲۔
3…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۹۰، ۳/۱۳۹-۱۴۰، ملخصاً۔
4…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۹۰، ۳/۱۴۰۔