Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
367 - 601
عدل اور احسان دونوں پر عمل کیا جائے:
	ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ دنیا اور آخرت دونوں کے اُمور میں عدل اور احسان دونوں سے کام لے اور صرف عدل کرنے پر اِکتفا نہ کرے ۔چنانچہ اسی بات کو سمجھاتے ہوئے امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اللّٰہ تعالیٰ نے عدل و احسان دونوں کا حکم دیا ہے اور عدل ہی نجات کاباعث ہے اور تجارت میں وہ مالِ تجارت کی طرح (ضروری) ہے اور احسان کامیابی اور خوش بختی کا سبب ہے اور تجارت میں یہ نفع کی طرح ہے لہٰذا وہ آدمی عقل مند لوگوں میں شمار نہیں ہوتا جو دُنْیوی معاملات میں صرف مال پر اِکتفا کرے اسی طرح آخرت کا معاملہ ہے لہٰذا دیندار آدمی کے لئے مناسب نہیں کہ عدل قائم کرنے اور ظلم سے بچنے پر ہی اِکتفا کرے اور احسان کے دروازوں کو چھوڑ دے۔(1) 
{وَ اِیۡتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی:اور رشتے داروں کو دینے کا۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور نیک سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے۔ رشتے دار قریب کے ہوں یا دور کے،اللّٰہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے رزق میں سے حاجت سے زائد کچھ مال انہیں دے کر ان کے ساتھ صلہ رحمی کرنا اور اگر اپنے پا س زائد مال نہ ہو تو رشتہ داروںکے ساتھ محبت سے پیش آنا اور ان کے لئے دعائے خیر کرنا مستحب ہے۔(2)
 رشتے داروں کے ساتھ صِلہ رحمی اور حسنِ سلوک کرنے کے فضائل:
 	رشتے داروں کے ساتھ صِلہ رحمی اور حسنِ سلوک کرنے کی بڑی فضیلت ہے،اس سے متعلق 3اَحادیث درج ذیل ہیں :
(1)… حضرت ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں، ایک شخص نے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ میں حاضر ہو کر عرض کی :یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’تم اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور ا س کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔(3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…احیاء العلوم، کتاب آداب الکسب والمعاش، الباب الرابع فی الاحسان فی المعاملۃ، ۲/۱۰۱۔
2…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۹۰، ۳/۱۳۹۔
3…بخاری، کتاب الزکاۃ، باب وجوب الزکاۃ، ۱/۴۷۱، الحدیث: ۱۳۹۶۔