مفسرین نے عدل اور احسان کے اور معنی بھی بیان فرمائے ہیں ، چنانچہ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ عدل یہ ہے کہ آدمی لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ کی گواہی دے اور احسان فرائض کو ادا کرنے کا نام ہے۔
آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہی سے ایک اور روایت ہے کہ عدل شرک کو ترک کرنے کا نام ہے اور احسان یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرنا گویا وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور دوسروں کے لئے وہی پسند کرنا جو اپنے لئے پسند کرتے ہو مثلاً اگر وہ مومن ہو تو اُس کے ایمان کی برکات کی ترقی تمہیں پسند ہو اور اگر وہ کافر ہو تو تمہیں یہ پسند آئے کہ وہ تمہارا مسلمان بھائی ہوجائے۔
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ایک اور روایت میں ہے کہ عدل توحیدکا اور احسان اِخلاص کا نام ہے۔(1) ان تمام روایتوں کا طرزِ بیان اگرچہ جدا جدا ہے لیکن مقصود ایک ہی ہے۔
اور حضرت سفیان بن عُیَیْنَہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’ عدل یہ ہے کہ تمہارا ظاہر اور باطن دونوں (اطاعت اور فرمانبرداری میں) برابر ہو اور احسان یہ ہے کہ باطن کا حال ظاہر سے بہتر ہو۔(2)
ابو عبداللّٰہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ابنِ عربی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : عدل کی ایک قسم وہ ہے جس کا تعلق بندے اور ا س کے رب کے درمیان ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس کے مطالبے پر اپنے رب تعالیٰ کے حق کو ترجیح دے، اپنی خواہشات پر اس کی رضا کو مقدم کرے ، گناہوں سے اِجتناب کرے اور نیک اعمال بجا لائے۔ عدل کی دوسری قسم وہ ہے جس کا تعلق بندے اور ا س کے نفس کے درمیان ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس کو ان چیزوں سے روکے جس میں ا س کی ہلاکت ہے، پیروی کرنے والے سے اپنی طمع ختم کر دے اور ہر حال میں قناعت کو اپنے اوپر لازم کر لے۔ عدل کی تیسری قسم وہ ہے جس کا تعلق بندے اور مخلوق کے درمیان ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ بندہ لوگوں کو خوب نصیحت کرے،قلیل و کثیر ہر چیز میں خیانت کرنا چھوڑ دے، ہر صورت میں لوگوں کے ساتھ انصاف کرے، اس کی طرف سے کسی کو بھی قول سے، فعل سے، پوشیدہ یا اِعلانیہ کوئی برائی نہ پہنچے اورلوگوں کی طرف سے اِس پر جو مصیبت اور آزمائش آئے اُس پر صبر کرے۔(3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۹۰، ۳/۱۳۹، ملخصاً۔
2…خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۹۰، ۳/۱۳۹۔
3…تفسیرقرطبی، النحل، تحت الآیۃ: ۹۰،۵/۱۲۱، الجزء العاشر۔