الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ وَ الْبَغْیِ ۚ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۹۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک اللّٰہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللّٰہ عدل اور احسان اور رشتے داروں کو دینے کا حکم فرماتا ہے اور بے حیائی اور ہر بری بات اور ظلم سے منع فرماتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
{اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُ بِالْعَدْلِ وَالۡاِحْسَانِ:بیشک اللّٰہ عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے۔}عدل اور انصاف کا (عام فہم) معنی یہ ہے کہ ہر حق دار کو اس کا حق دیاجائے اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے ، اسی طرح عقائد، عبادات اور معاملات میں اِفراط و تفریط سے بچ کر درمیانی راہ اختیار کرنا بھی عدل میں داخل ہے جیسے بندہ نہ تو دہریوں کی طرح اللّٰہ تعالیٰ کے وجود کا انکار کرے اور نہ مشرکوں کی طرح اللّٰہ تعالیٰ کو شریک ٹھہرانے لگے بلکہ اسے چاہئے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کو موجود، واحد اور لاشریک مانے، اسی طرح نہ تو یہ نظریَہ رکھے کہ اللّٰہ تعالیٰ مومن بندے کے کسی گناہ کا مُؤاخذہ نہیں فرمائے گا اور نہ ہی یہ عقیدہ رکھے کہ کبیرہ گناہ کرنے والا ہمیشہ جہنم میں رہے گا بلکہ یہ عقیدہ رکھے کہ گنہگار مسلمان کا معاملہ اللّٰہ تعالیٰ کی مَشِیَّت پر مَوقوف ہے وہ چاہے تواسے سزا دے اور چاہے تو اسے معاف کر دے اور کبیرہ گناہ کرنے والا مسلمان ہے، وہ اگر جہنم میں گیا تو ہمیشہ جہنم میں نہ رہے گا بلکہ اپنے گناہوں کی سزا پوری ہونے کے بعد جنت میں داخل ہو گا۔ یونہی بندہ عبادات میں اس قدر مصروف نہ ہو جائے کہ اس وجہ سے بیوی بچوں، عزیز رشتہ داروں پڑوسیوں اور دیگر لوگوں کے شرعی حقوق ہی ادا نہ کر سکے اور نہ عبادات سے اس قدر غافل ہو کہ فرائض و واجبات ہی ترک کرنا شروع کر دے بلکہ فرائض و واجبات اور سُنَن کی ادائیگی تو ضرور کرے البتہ نفلی عبادت و ریاضت اتنی کرے کہ اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگوں کے شرعی حقوق بھی آسانی کے ساتھ ادا کر سکے ، ایسے ہی سخاوت کرنا بہت عمدہ فعل ہے لیکن یہ نہ اتنی کم ہو کہ بندہ بخل کے دائرے میں داخل ہوجائے اور نہ ہی اتنی زیادہ ہو کہ وہ فضول خرچی میں شامل ہو جائے بلکہ ان دونوں کے درمیان ہو۔(1)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، النحل، تحت الآیۃ: ۹۰، ۵/۷۰-۷۱، ملخصاً۔